رام اللہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی اسیران میڈیا آفس نے کہا ہے کہ قابض صہیونی ریاست کے نام نہاد ’ڈیمون‘ نامی جیل میں فلسطینی خواتین قیدیوں کو ایک ہفتہ قبل دن کی روشنی میں وحشیانہ جبر وتشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے دوران انہیں برہنہ تلاشی دینے پر مجبور کیا گیا۔
اسیران میڈیا کے مطابق جیلوں میں قید فلسطینی خواتین کے ساتھ اس طرح کا ناروا سلوک معمول بن چکا ہے اور کئی دوسری جیلوں میں بھی قابض فوج اور جیل انتظامیہ فلسطینی خواتین کی عریاں تلاشی کے مکروہ ہتھکنڈے کا استعمال کررہی ہے۔
قیدیوں کے انفارمیشن آفس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ قابض فوج کی “یماز” یونٹ نے خواتین قیدیوں کے کمروں پر دھاوا بولا، پھر انہیں غسل خانوں میں لے جایا اور ان کی برہنہ تلاشی لی گئی۔ یہ حربہ انسانی وقار کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ “خواتین قیدیوں کو بعد میں کینٹین کے کمرے میں منتقل کر دیا گیا، جہاں سے رمضان کے مقدس مہینے میں استعمال کے لیے جمع کیے گئے تمام کھانے کے ڈبوں کو ضبط کر لیا گیا۔ خواتین قیدیوں کے حصے میں تین بار جبر کو دہرایا گیا، دہشت پھیلانے اور ان کے حوصلے کو توڑنے کی کوشش
کی گئی۔
قیدیوں کے میڈیا سینٹر نے وضاحت کی کہ خواتین قیدیوں کی تعداد 24 ہے اور انہیں فراہم کیے جانے والے کھانے کی مقدار میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ ان کی روزمرہ کی خوراک صرف دالیں، دال، چاول اور مٹر کے سوپ تک محدود ہے۔انہیں سحری اور افطاری کے اوقات میں خوراک اور پانی مہیا نہیں کیے جاتے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خواتین قیدیوں کے خلاف یہ جرائم “ہر اعتبار سے ناقابل قبول اور تمام بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے”۔