غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’ حماس‘ نے قابض صہیونی حکام کے اس دعوے پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ جمعرات کو حوالے کی گئی اسرائیلی قیدی شیری بیباس کی لاش ڈی این اے ٹیسٹ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ حماس نے صہیونی ریاست کی طرف سے اس طرح کے دعووں کو بنجمن نیتن یاہو کی اسرائیلی عوام میں خراب ہوتی ساکھ کو بہتر بنانے کی ناکام کوشش قرار دیا۔
حماس نے جمعے کے روز ایک بیان میں ہر سطح پر معاہدے کے تقاضوں کو نافذ کرنے کے لیے آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم حماس میں اپنی تمام ذمہ داریوں کے بارے میں اپنی سنجیدگی اور مکمل عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور ہم نے گذشتہ چند دنوں کے اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کیا ہے۔ ہمیں کسی بھی جلاش کو اپنے پاس رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں ثالث ممالک کے ذریعے قابض ریاست کے الزامات اور دعوے موصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ان دعوؤں کا مکمل سنجیدگی سے جائزہ لیں گی اور نتائج کا واضح اعلان کریں گی۔
اس نے لاشوں میں خرابی یا اوورلیپ ہونے کے امکان کی بھی نشاندہی کی۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی بمباری کی وجہ سے بہت سی لاشیں ناقابل شناخت ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ثالث ملکوں اس حوالے سے تحقیقات کے نتائج سے آگاہ کریں گی۔حماس نے زور دیا کہ اگر غلطی سے اسرائیل کے حوالے کی گئی لاش کسی فلسطینی خاتون کی ہے تو اسے ہمارے حوالے کردیا جائے۔
قابض اسرائیلی فوج نے جمعے کی صبح دعویٰ کیا کہ غزہ سے اسرائیل منتقل کی گئی لاشوں کے معائنے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ لاشوں میں سے ایک لاش شیری بیباس کی نہیں اور نہ ہی کسی دوسرے قیدی مرد یا عورت کی ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے بیباس کے خاندان کو مطلع کیا کہ ان کے دو بیٹوں کی شناخت ہو گئی ہے، اور حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ “دیگر تمام یرغمالیوں کے ساتھ شیری کی لاش واپس کرے”۔