غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان عبداللطیف القانوع نے کہا کہ حماس فلسطینی عوام کے خلاف جارحیت کو روکنے کے لیے ثالثوں کے ساتھ بات چیت کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ قابض اسرائیل کو معاہدے کی پاسداری پر مجبور کرنے اور اسے اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جائے۔
جمعرات کو ایک پریس بیان میں القانوع نے جنگ بندی کے معاہدے کےساتھ اپنی وابستگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ “ہم ثالثوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ اپنے لوگوں کو جنگ سے مستقل طور پر بچایا جا سکے اور غزہ کی پٹی سے قابض اسرائیل کے انخلاء کو یقینی بنایا جا سکے۔”
انہوں نے زور دے کر کہا کہ غزہ کے محاصرے، فاقہ کشی اور تباہی کی جنگ میں ہمارے لوگوں کو نسل کشی سے بچانے، فاقہ کشی کو روکنے اور محاصرہ ختم کرنے کے لیے عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے فوری اقدام کی ضرورت ہے۔
غزہ کی پٹی پر 18 مارچ سے قابض اسرائیل نے اپنی جارحیت دوبارہ شروع کی ہےجس میں صرف ایک رو ز میں 550 سے زائد شہری شہید اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔