قاہرہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اعلان کیا ہے کہ جماعت کے سینیر رہ نما ڈاکٹر خلیل الحیہ کی سربراہی میں ایک مذاکراتی وفد پہنچا ہے تاکہ مصری حکام سے ملاقات کرکے مذاکرات اور جنگ بندی معاہدے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حماس اعلان کیا ہے کہ اس نےغزہ میں جنگ بندی کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی نژاد اسرائیلی قیدی ایڈان الیگزینڈر اور چار دیگر دوہری شہریوں کی لاشیں حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔
فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق کی طرف سے موصول ہونے والے ایک بیان میں حماس نے مذاکرات شروع کرنے اور دوسرے مرحلے کے مسائل پر ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے اپنی مکمل تیاری کا اعادہ کیا۔ حماس نے قابض اسرائیل کو اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر نافذ کرنے پر مجبور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
قابل ذکر ہے کہ فلسطینی مزاحمت کے زیر حراست باقی قیدیوں میں سے پانچ امریکی شہریت کے حامل ہیں جن میں ایڈن الیگزینڈر بھی شامل ہے جو ایک اکیس سالہ امریکی نژاد اسرائیلی فوجی ہے۔