بیروت (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے شہید سیکرٹری جنرل الشیخ حسن نصراللہ، جماعت کے سابق رہ نما ہاشم صفی الدین اور دیگر کی نماز جنازہ دارالحکومت بیروت میں ادا کی گئی۔ حزب اللہ کے شہد رہ نماؤں کی نماز جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
اتوار کی سہ پہر بیروت کے اسپورٹس سٹی میں صدر کیملی چمون اسٹیڈیم میں ہونے والی نماز جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔اس موقعے پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔
بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی حملوں میں ان کے قتل کے تقریباً پانچ ماہ بعد حزب اللہ کے دو سابق سیکرٹری جنرل کی آخری رسومات میں وسیع پیمانے لوگوں کی شرکت فلسطینی اور لبنانی مزاحمت کی حمایت میں ریفرنڈم ہے۔
شہید حسن نصراللہ کے جسد خاکی کے تابوت ایک گاڑی میں رکھ کر جنازہ گاہ لے جایا گیا جہاں لاکھوں سوگواروں نے ان کا آخری دیدار کیا۔ اس کے بعد انہیں جنوبی بیروت میں سپرد خاک کردیا گیا۔
خیال رہے کہ 27 ستمبر کو ان کی شہادت کے بعد ان کے جسد خاکی کو خفیہ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔ حسن نصراللہ کی نماز جنازہ کے بعد ان کے جانشین ہاشم صفی الدین شہید کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی جس کے بعد ان کا جسد خاکی ان کے آبائی شہر دیر قانون النہر میں لے جایا گیا جہاں کل انہیں سپرد خاک کیا جائے گا۔
جنازے میں سوگواروں کو خوفزدہ کرنے اور انہیں جنازے سے منتشر کرنے کی کوشش میں کم اونچائی پر قابض اسرائیلی جنگی طیاروں کی مسلسل پروازیں، ساؤنڈ بیریئر توڑنے اور فرضی حملے جیسے حربے استعمال کیے گئے تاہم اس کے باوجود لاکھوں لوگوں نے ان کے جنازے میں شرکت کی۔
اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل جنرل نعیم قاسم نے کہا کہ “آج ہم ایک غیر معمولی عرب اور اسلامی رہنما کو الوداع کرتے ہیں۔ انہوں نے پیارے فلسطینی عوام کی آزادی اور القدس کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے اپنا خون بہایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید حسن نصر اللہ نے مجاہدین کے ساتھ آپریشن روم میں رہنے پر اصرار کیا اور شہید ہوئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے فلسطینی کاز کو زندہ کرنے میں قربانیاں دیں۔
نعیم قاسم نے نشاندہی کی کہ شہید صفی الدین نے عوام کی خدمت کرنے والے مختلف شعبوں میں کام کیا اور مجاہدین کا ساتھ دیا ۔ حزب اللہ کے قیام کے بعد سے انہوں نے بیروت کے علاقے کی قیادت سے اور ایگزیکٹو کونسل سے لے کر جنرل سیکرٹریٹ تک مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی مزاحمت کی حمایت کی پاداش میں صہیونی دشمن نے لبنان پر حملہ کیا۔ کیونکہ وہ اس مزاحمت کو برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ انہوں نے شہید رہماؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی قوم خون کے آخری قطرےتک جہاد جاری رکھے گی اور حزب اللہ ہمیشہ فلسطینیوں کے ساتھ رہے گی۔ ہمارے شہداء کا خون رائے گاں نہیں جائے گا۔