واشنگٹن (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی صدارتی ایلچی برائے یرغمالی امور ایڈم بوہلر نے اتوار کو کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ساتھ امریکی ملاقاتیں “بہت مفید” تھیں۔
بوہلر نے سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا خیال ہے کہ غزہ پر ہفتوں کے اندر کچھ کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
ٹرمپ کے ایلچی ایڈم بوہلر کا کہنا ہے کہ دوحہ میں حماس کے ساتھ ان کی ملاقات “بہت مددگار” تھی۔وہ حماس کے ساتھ امریکی انتظامیہ کے براہ راست مذاکرات کے بارے میں اسرائیلی “تشویش” کو سمجھتے ہیں۔
بوہلر نے حماس کے ساتھ اضافی ملاقاتوں کو مسترد نہیں کیا۔
امریکی ایلچی نے مزید کہا کہ امریکہ “اسرائیل کا ایجنٹ نہیں ہے” اور اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔
اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے سے انکار کر دیا۔ معاہدے کا پہلا مرحلہ 19 جنوری سے نافذ العمل ہوا مگر صہیونی ریاست نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی معاہدے کےدوسرے مرحلے پر بات چیت سے انکار کردیا۔
مارچ کے آغاز میں قابض حکام نے جنگی مجرم بنجمن نیتن یاہو کے فیصلے سے غزہ کی پٹی کے ساتھ گزرگاہیں بند کر دیں اور اس میں امداد اور رسد کا داخلہ روک دیا۔