غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں واقع اسرائیلی بستی ایریل کے قریب فائرنگ کا حملہ “قابض اسرائیلی جرائم کے خلاف جاری ردعمل” کا حصہ ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ “یہ آپریشن ایک نیا پیغام ہے جو ہمارے لوگوں اور ہمارے آزاد مزاحمت کارو ں کی طرف سے لکھا گیا ہے، جو ہمارے لوگوں کے خلاف مجرمانہ قابض کے ذریعے کی جانے والی ظالمانہ جارحیت کے خلاف فطری رد عمل ہے۔
حماس نے زور دیا کہ “جب تک قابض ریاست اور اس کے جرائم جاری رہیں گے مزاحمت ختم نہیں ہو گی”۔
انہوں نے “قابض اسرائیل کے خلاف مزاحمت اور تکلیف دہ کارروائیوں کو بڑھانے، اس کے حسابات میں خلل ڈالنے اور اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے صفوں کو متحد کرنے پر زور دیا‘‘۔
بدھ کی شام مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں ایریل بستی کے قریب فائرنگ کے حملے میں ایک اسرائیلی معمولی زخمی ہوا۔
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے نے ریڈ سٹار آف ڈیوڈ (اسرائیلی ایمبولینس سروس) کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ ایک اسرائیلی آباد کار “بستی کے قریب گولی لگنے سے معمولی زخمی ہوا تھا اور اسے ہسپتال لے جایا گیا تھا”۔
اخبار اسرائیل ہیوم نے رپورٹ کیا کہ “حملے کا مرتکب جس کی شناخت کا تعین نہیں کیا گیا ہے، جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا۔اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس کا تعاقب کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تلاشی کی کارروائی جاری ہے، جس میں ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں”۔
غزہ میں تباہی کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی فوج اور آباد کاروں نے مشرقی بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 934 سے زائد فلسطینی شہید، 7000 کے قریب زخمی اور 14500 کو گرفتار کیا گیا ہے۔