غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) آکسفیم نے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں پانی اور سیوریج کے 80 فیصد سے زیادہ نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا، جس سے صحت کی تباہ کن صورتحال پیدا ہو گئی۔
غزہ میں آکسفیم کے انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر کلیمینس لاگورڈا نے منگل کو ایک بیان میں کہاکہ ’’اب جب کہ بمباری بند ہو چکی ہے، ہمیں تباہی کے پیمانے کا اندازہ ہونا شروع ہو گیا ہے‘‘۔
تنظیم نے وضاحت کی کہ اسرائیل نے 1,650 کلومیٹر پانی اور سیوریج کے نیٹ ورک کو تباہ کیا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ شمالی غزہ اور جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح کی آبادی روزانہ صرف 5.7 لیٹر پانی پر گزارہ کرتی ہے جو کہ جنگ سے پہلے کی شرح کے 7 فیصد سے بھی کم ہے۔ اس نے کہا کہ ٹوائلٹ صاف کرنے کے لیے ایک فلش کے لیے یہ بمشکل کافی ہے۔
آکسفیم نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے تسلسل اور ایندھن اور امداد کے بہاؤ کا منتظر ہیں تاکہ فلسطینی اپنی زندگیوں کی تعمیر نو کر سکیں۔
اسی تناظر میں عرب ریاستوں کے لیے اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی ریجنل ڈائریکٹر لیلیٰ بیکر نے کہا کہ غزہ پر جنگ کی وجہ سےتا حد نگاہ تباہی ہی تباہی ہے۔
الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے غزہ کے لوگوں کو اپنی معمول کی زندگیوں کی تعمیر نو میں مدد کے لیے حالات زندگی کو بہتر بنانے پر زور دیا۔
اس نے نشاندہی کی کہ ملبے کی مقدار اور رہنے کے قابل نہ ہونے والی جگہوں پر لوگوں کے ہجوم کے باوجود لوگوں کا زمین سے تعلق اب بھی مضبوط ہے۔
اقوام متحدہ، یورپی یونین اور ورلڈ بینک کے ایک جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے کی تعمیر نو کے لیے اگلے دس سالوں میں 53.2 بلین ڈالر کی ضرورت ہے، جس میں پہلے تین سالوں میں 20 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
انیس جنوری کو اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ اپنے پہلے مرحلے میں نافذ ہوا۔ یہ معاہدہ غزہ کی پٹی کے خلاف 15 ماہ تک جاری رہنے والی تباہی کی جنگ اورایک لاکھ ساٹھ ہزار( 160,000) سے زائد افراد شہید اور زخمی ہونے کے بعد طے پایا۔