غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش نے بتایا ہے کہ اس سال 19 جنوری کو غزہ کی پٹی میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے قابض فوج کی جانب سے براہ راست فائرنگ سے شہداء کی کل تعداد 92 ہو گئی ہے، اس کے علاوہ 822 شہری زخمی ہوئے ہیں۔
البرش نے نشاندہی کی کہ غزہ کی پٹی میں قابض فوج کے گرائے گئے بم پھٹنے سے دو فلسطینی شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہونے والوں کی تعداد 24 تک پہنچ گئی۔ اس طرح جنگ بندی کے نفاذ کے بعد شہداء کی کل تعداد 118 ہو گئی۔
البرش نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ صحت کی ٹیموں نے 641 شہداء کی لاشیں ملبے کے نیچے سے نکالا، جن میں سے تقریباً 197 کی ابھی تک شناخت نہیں ہوسکی۔
وزارت صحت نے اعلان کیا کہ 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک اسرائیلی جارحیت سے شہید ہونے والوں کی تعداد 48,219 اور 111,665 زخمی ہو چکے ہیں۔
وزارت صحت نے کہا کہ ابھی بھی بہت سے متاثرین ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر ہیں اور ایمبولینس اور شہری دفاع کا عملہ ان تک نہیں پہنچ سکتا۔
اس تناظر میں گورنمنٹ میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل اسماعیل ثوابتہ نے تصدیق کی کہ قابض اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے فیصلے کے آغاز سے لے کر آج تک 265 سے زائد خلاف ورزیاں کی ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ان خلاف ورزیوں میں سب سے نمایاں ہیں: زمینی دراندازی، فائرنگ، شہریوں کو شہید اور زخمی کرنا، گھروں کو مسمار کرنا، ہوائی جہاز اڑانا، بمباری کرنا اور جرائم کا ارتکاب کرنا، ایندھن، امداد اور بھاری ساز و سامان لانے سے روکنا جیسے جرائم شامل ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ہسپتالوں اور سول ڈیفنس کے مراکز کو بحال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سول ڈیفنس کا سامان، ایمبولینس، طبی آلات لانے کی اجازت نہیں دی گئی، اس کے علاوہ خیمے اور شیلٹرز لانے سے روکا گیا ہے۔