غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) وسطی غزہ کی پٹی کے نصیرات کیمپ میں قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے گرائےگئے بارودی مواد کے پھٹنے کے نتیجے میں جمعرات کو ایک فلسطینی لڑکا شہید ہوگیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب فلسطینی بچہ اس مقام کے قریب سے گزر رہا تھا ۔ دھماکے نتیجے میں 14 سالہ بچہ سالم علاء سعود موقعے پر ہی دم توڑ گیا۔
ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وسطی غزہ کی پٹی میں البریج کیمپ کے شمال میں قابض اسرائیلی فوج کی اندھا دھند فائرنگ سے پندرہ سالہ بچہ انس صقر احمد النبہین شہید ہوگیا۔
سرکاری اندازے بتاتے ہیں کہ قابض فوج نے غزہ کی پٹی پر اپنی جارحیت کے دوران تقریباً نصف ملین بم گرائے جس میں تقریباً 92 ہزار ٹن دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔
ان تخمینوں کے مطابق تقریباً 18 فیصد راکٹ اور گولے نہیں پھٹے، جس کی وجہ سے وہ شہریوں خاص طور پر بچوں کی زندگیوں کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ ان ناکارہ ہونے والے بموں کو فلسطینیوں کے لیے “موت کا جال” سمجھا جاتا ہے۔