صنعاء (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یمن کی انصار اللہ تحریک کے رہنما عبدالملک الحوثی نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں 20 لاکھ فلسطینیوں کو جان بوجھ کر بھوکا مارنا ایک “بڑا اور سنگین جرم” ہے جسے جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے عرب ممالک کے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عرب ملکوں پر بزدل حکمران مسلط ہیں۔ وہ مظلوم فلسطینی قوم کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مجرمانہ کوتاہی کے مرتکب ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کو موصول ہونے ولے بیانات میں الحوثی نے مزید کہا کہ “قابض اسرائیل کے جرائم پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ جو اس جارحیت کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں۔صرف مذمت اور خالی بیانات کی کوئی حیثیت نہیں۔ انہوں نے “عرب ممالک اور اسلامی دنیا کی خاموشی انھیں اس جارحیت میں شراکت دار بناتی ہے”۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں امداد کی روک تھام اور کراسنگ کی بندش کا مقصد فلسطینی عوام کو بھوکا مارنا ہے، یہ پالیسیاں فلسطینیوں پر مسلسل دہشت گردی اور ان کی مرضی کو توڑنے کی ناکام کوشش ہیں۔
الحوثی نے وضاحت کی کہ ان جرائم کے بارے میں عربوں کا موقف فلسطینی عوام کے حوالے سے ایک بڑی ناکامی اور تاریخی ذمہ داری سے فرار کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عرب حکومتوں کی جانب سے فلسطینی عوام کو بے گھر کرنے کے لیے کسی بھی اقدام کو قبول کرنا انہیں “براہ راست جارحیت پسند” میں تبدیل کر دے گا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ “فلسطینیوں کی نقل مکانی کے لیے زمین دینے سے عربوں کا انکار ایک اچھا قدم ہے، لیکن انہیں جو کچھ کرنا چاہیے تھا وہ نہ ہونے کے برابر ہے”۔