لندن (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسرائیلی جارحیت کے دوران غزہ کی پٹی میں کام کرنے والے برطانوی ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ “بڑی تعداد میں فلسطینی متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ ،غذائی قلت، ہسپتالوں کی تباہی اور تجربہ کار طبی عملے کے قتل سے متعلق متعدد صحت کے مسائل کی وجہ سے موت سے دوچار ہوسکتے ہیں”۔
گارڈین نے پروفیسر غسان ابو ستہ کے حوالے سے بتایا کہ “وہاں غذائیت کی کمی کی سطح اتنی شدید ہے کہ بہت سے بچے کبھی صحت یاب نہیں ہوں گے”۔
خیال ہے کہ ڈاکٹر ابو ستہ فلسطینی نژاد برطانوی ڈاکٹر ہیں جنہوں نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے فوراً بعد غزہ شہر کے الشفاء اور العرب الاھلیہسپتالوں میں کام کیا۔
ابو ستہ نے تصدیق کی کہ “غزہ میں طبی ماہرین کی تمام ٹیموں کا صفایا کر دیا گیا، اور ان کے متبادل کی تربیت میں 10 سال لگیں گے”۔
دی گارڈین نے ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ” ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی کل تعداد بالآخر 186,000 تک پہنچ سکتی ہے، یہ تعداد اس پٹی میں وزارت صحت کی طرف سے اعلان کردہ 48,000 سے زیادہ اموات سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے”۔
برطانوی ڈاکٹر اور ٹرانسپلانٹ سرجن پروفیسر نظام مامودنے کہا کہ”حملوں سے نہ ہونے والی اموات کی تعداد بالآخر 186,000 سے تجاوز کر سکتی ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہلاکتوں میں اضافے کی ایک وجہ یہ ہے کہ جنگ کے دوران صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ “شمالی غزہ کی پٹی میں طبی خدمات انجام چھ سرجنوں میں سے صرف ایک سرجن زندہ ہے، اور اب کوئی کینسر کا ماہر زندہ نہیں ہے”۔
گارڈین نے کہا کہ “گذشتہ ہفتے ہزاروں فلسطینیوں نے شمالی غزہ کی طرف واپسی شروع کی تھی، جہاں تمام عمارتیں اس وقت ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔
پچھلے مہینے اقوام متحدہ نے اندازہ لگایا تھا کہ “اس سال غزہ میں 60,000 سے زیادہ بچوں کو شدید غذائی قلت کے لیے علاج کی ضرورت ہوگی۔ عالمی تنظیم نے کہا کہ “ان میں سے کچھ پہلے ہی فوت ہوچکے ہیں”۔
امریکی حمایت سے قابض افواج نے 7 اکتوبر 2023 سے 19 جنوری 2025 کے درمیان غزہ میں نسل کشی کی، جس میں 160,000 سے زیادہ فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے، جن میں سے زیادہ تر بچے اور خواتین تھیں۔ 14,000 سے زیادہ لاپتہ ہوئے ہیں۔