غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر اپنی نئی جارحیت عید کے تیسرے روز بھی جاری ہے۔
وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ 18 مارچ کو غزہ میں قابض دشمن کی جانب سے تباہی کی جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 1000 سے زیادہ افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں کم از کم 322 بچے بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کے اعداد و شمار کے مطابق تین 609 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی فوجی جارحیت کے نتیجے میں عیدالفطر کے آغاز سے اب تک غزہ کی پٹی میں ہ تعداد 85 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔غزہ کے فیلڈ ہسپتالوں کے ڈائریکٹر مروان الحمص نے پیر کے روز تصدیق کی کہ شہداء میں 75 فیصد خواتین اور بچے ہیں، جب کہ غزہ میں قابض فوج کی جانب سے انسانی امداد کی بندش کی وجہ سے طبی سامان ختم ہونے لگاہے۔
پریس ذرائع نے تصدیق کی کہ قابض اسرائیلی طیاروں نے خان یونس کے مغرب میں اماراتی محلے میں صحافی البردویل کے اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا جس میں وہ اپنی اہلیہ اور تین بچوں سمیت شہید ہوگئے۔
البردویل مقامی الاقصیٰ ریڈیو پر براڈکاسٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔
غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس میں ایک گھر پر اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے والا ایک فلسطینی بچہ دم توڑ گیا۔
وسطی غزہ کی پٹی میں نصیرات پناہ گزین کیمپ کے شمال میں اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری سے تین شہری زخمی ہو گئے، جب کہ شمالی غزہ کی پٹی کے ساحل پر بندوق بردار کشتیوں نے فائرنگ کی۔
غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے رفح کے شمال میں واقع خربہ العداس میں اسرائیلی ڈرون حملے میں دو فلسطینی زخمی ہو گئے۔
طبی ذرائع نے بتایا کہ وسطی غزہ کی پٹی میں البریج کیمپ کے مشرق میں بلاک 12 میں قابض فوج کی جانب سے شہریوں کے ایک گروپ پر بمباری میں ابو جبل خاندان کا ایک شہری شہید ہوگیا۔
وزارت صحت نے اعلان کیا کہ 7 اکتوبر 2023 کو غزہ پر تباہی کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے شہداء کی تعداد 50,357 اور زخمیوں کی 114,400 ہوچکی ہے۔