غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران غزہ پر اسرائیلی جارحیت سے شہادتوں کی تعداد 591 ہو گئی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کو موصول ہونے والی ایک پریس ریلیز میں سرکاری میڈیا آفس نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح سے غزہ کی پٹی میں درجنوں بار اجتماعی قتل عام کیا ہے، جس میں براہ راست اور بغیر کسی وارننگ کے شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا ہے،اس جارحیت کے نتیجے میں 591 فلسطینی شہید اور 1042 زخمی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ متاثرین کی ایک نامعلوم تعداد ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہے، امدادی ٹیمیں ایندھن کی کمی اور سول ڈیفنس کے آلات کے مفلوج ہونے کی وجہ سے انہیں نکالنے میں ناکام ہیں۔
سرکاری میڈیا آفس نے نشاندہی کی کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس عرصے کے دوران شہید ہونے والے بچوں، خواتین اور بزرگوں کی تعداد 70 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ قابض فوج نسل کشی کے منظم جرم کے تحت شہریوں کو براہ راست نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ وحشیانہ جارحیت امریکی حمایت اور شرمناک بین الاقوامی خاموشی کے درمیان غزہ کی پٹی میں ہمارے لوگوں کے خلاف نسل کشی مکمل کرنے کے قابض اسرائیل کے پہلے سے طے شدہ ارادے کی عکاسی کرتی ہے۔
بیان میں قابض فوج کی طرف سے نہتے شہریوں کے مسلسل قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اقوام عالم اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان جرائم کی مذمت کریں اور ان کے تسلسل کو روکنے کے لیے فوری اقدام کریں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم قابض اسرائیل اور امریکی انتظامیہ کو نہتے لوگوں کے مسلسل قتل عام اور نسلی تطہیر کا مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ہم اس بات پر زور دیتے ہیں یہ جارحیت ہمیں خوفزدہ نہیں کرے گی اور نہ ہی ہماری ثابت قدمی کو توڑے گی۔
سرکاری میڈیا آفس نے بین الاقوامی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس وحشیانہ قتل عام کو روکنے کے لیے فوری ایکشن لیں۔ مجرم قابض ریاست پر فوری طور پر کراسنگ کھولنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔