غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ہیومن رائٹس واچ نے زوردے کر کہا ہے کہ قابض اسرائیلی افواج نے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا اور غزہ کی پٹی میں ہسپتالوں پر قبضے کے دوران فلسطینی مریضوں اور زخمیوں کے خلاف جان لیوا سفاکیت کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی۔
جمعرات کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں تنظیم نے قابض افواج کی طرف سے مریضوں کو بجلی، پانی، خوراک اور ادویات سے محروم کرنے، شہریوں پر گولیاں چلانے، صحت کے کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک اور طبی سہولیات اور آلات کی جان بوجھ کر تباہی کو دستاویزی شکل دی ہے۔ تنظیم نے اس بات پر زور دیا کہ غیر قانونی جبری بے دخلی نے مریضوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور ہسپتالوں کو بند کر دیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ میں بچوں کے حقوق کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر بل وان ایسویلڈ نے کہاکہ “اسرائیلی فورسز نے بار بار فلسطینی مریضوں کے خلاف جان لیوا ظلم و سفاکیت کا مظاہرہ کیا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے پانی اور بجلی سے انکار مریضوں اور زخمیوں کی موت کا باعث بنا، جب کہ فوجیوں نے بدسلوکی اور زبردستی بے دخلی سے مریضوں اور طبی عملے کو نقصان پہنچایا۔
غزہ کے ہسپتالوں پر قبضہ کرکے، قابض فوج نے “طبی اور بحالی کی سہولیات کو موت اور بدسلوکی کے مراکز میں تبدیل کر دیا ہے،” ایسفیلڈ نے مزید کہا کہ “ان ہولناک خلاف ورزیوں میں ملوث افراد بشمول اعلیٰ حکام کو کٹہرے میں لایا جانا چاہیے”۔
تنظیم نے نوٹ کیا کہ قابض حکام نے بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کی تحقیقات کا اعلان نہیں کیا ہے، جن میں مبینہ جنگی جرائم بھی شامل ہیں، جو اسرائیلی زمینی افواج نے ان یا دیگر ہسپتالوں کے کنٹرول کے دوران کیے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ہسپتالوں سے غیر قانونی جبری انخلا جان بوجھ کر قابض حکومت کی غزہ میں فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کرنے کی پالیسی کے حصے کے طور پر کیا گیا اور یہ انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہے۔
اپنی رپورٹ میں تنظیم نے مریضوں اور دو طبی عملے کی شہادتوں کو دستاویزی شکل دی جو قابض افواج نے نومبر 2023 اور مارچ 2024 میں غزہ شہر کے الشفاء میڈیکل کمپلیکس پر اور جنوری 2024 میں بیت لاہیا کے کمال عدوان ہسپتال اور فروری 2024 میں ناصر میڈیکل کمپلیکس پر دھاوا بولا اور اس پر قبضہ کیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ “ہسپتالوں پر قابض اسرائیلی فوج نے زخمیوں اور بیماروں کے علاج میں شدید مداخلت کی، ڈاکٹروں کی جانب سے مریضوں کے لیے ادویات اور سامان لانے کی درخواستوں کو مسترد کیا،ہسپتالوں اور ایمبولینسوں تک رسائی کو روک دیا، جس کے نتیجے میں زخمی اور دائمی طور پر بیمار مریضوں کی موت ہو گئی، جن میں گردے کی بیماری سے گزرنے والے بچے بھی شامل ہیں۔”
ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ قابض اسرائیلی قابض فوج نے ہسپتالوں کو زبردستی خالی کرایا، مریضوں، طبی عملے اور بے گھر افراد کو شدید خطرے میں ڈالا، مریضوں کو بغیر امداد کے ہسپتالوں سے نکل جانے کا حکم دیا، جس میں اسٹریچر اور وہیل چیئر پر سوار افراد بھی شامل ہیں۔ تنظیم نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ قابض اسرائیلی فوج نے ہسپتال کی کچھ عمارتوں کو غیر قانونی طور پر جلایا یا تباہ کیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے ہسپتالوں میں مریضوں، طبی عملے اور بے گھر افراد کے خلاف قابض فوجیوں کی طرف سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی، جس میں “شہریوں کو گولی مارنا اور قتل کرنا، طبی عملے پر گولی چلانا اور زیر حراست افراد کے ساتھ بدسلوکی کرنا شامل ہے۔”
ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ 2 مارچ سے اسرائیلی حکومت نے ایک بار پھر غزہ میں تمام امداد بشمول ایندھن کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے جو کہ بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
18 مارچ کو قابض اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنی تباہی کی جنگ دوبارہ شروع کی، جس کے نتیجے میں 710 افراد شہید اور 900 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں سے 70 فیصد بچے اور خواتین تھے، جن میں سے زیادہ تر کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔