غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے منگل کی صبح غزہ کی پٹی میں بیک وقت بڑے پیمانے پر وحشیانہ جارحیت دوبارہ شروع کردی گئی ہے جس کے نتیجے میں 400 فلسطینی شہید اور سیکڑوں کی تعداد میں زخمی ہو گئے ہیں۔
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں 400 سے زائد افراد شہید ، دسیوں لاپتا اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگاروں نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے مختلف حصوں پر وسیع پیمانے پر حملے کیے۔ یہ حملے 18 ماہ سے جاری نسل کشی کی جنگ کا تسلسل ہیں۔ جس کے نتیجے میں مشرقی غزہ اور غزہ سٹی میں 170 سے زائد شہید ہوئے، جب کہ صرف خان یونس میں 90 سے زائد شہید ہوئے ہیں۔
بزدل صہیونی فوج نے نہتے فلسطینیوں پر اس وقت بموں کی بارش کی جب غزہ کے بے گھرروزہ دار سحری کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ صہیونی دشمن کے جنگی طیارے ان کے سروں پر ٹنوں وزنی بم اور بارود گرانے لگے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے رفح، خان یونس، غزہ اور شمالی غزہ پر اچانک حملے شروع کیے اور پرتشدد فائر بیلٹس کیے۔
ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے دیر البلاح اور جبالیہ پر نئے حملے شروع کیے جو غزہ کی پٹی کو نشانہ بنانے والی بمباری کی پہلی لہر کے بعد چند منٹ تک جاری رہی۔
عبرانی میڈیا کے مطابق غزہ کی پٹی پر حملے میں 100 اسرائیلی جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔
طبی ذرائع نے بیک وقت، وسیع پیمانے پر ہونے والی جارحیت کے نتیجے میں درجنوں شہادتوں اور زخمیوں کی تصدیق کی۔
قابض افواج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر اصرار کرتے ہوئے غزہ پر خونریز جنگ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
قابض فوج نے کہا ہےکہ سیاسی قیادت کی ہدایات کی بنیاد پر فوج اور شین بیت فورسز پورے غزہ کی پٹی میں اہداف پر بڑے پیمانے پر حملے کر رہے ہیں۔
غزہ میں شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی قابض فوج کے طیاروں کے وحشیانہ حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ “ہمارے عملے کو ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ ہدف کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں اس شعبے میں کام کرنے میں خاصی مشکلات کا سامنا ہے”۔
مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری سے غزہ شہر کے وسطی علاقے الدرج کے محلے میں بے گھر ہونے والے لوگوں کی پناہ گاہ التابعین سکول پر بمباری سے متعدد افراد شہید اور دیگر زخمی ہوگئے۔
ایک طبی ذریعہ نے اطلاع دی ہے کہ غزہ شہر کے المعمدانی ہسپتال میں پانچ بچوں سمیت آٹھ شہداء اور 50 زخمی لائے گئے ہیں۔ ایمبولینس کا عملہ اب بھی متاثرین کو لے جا رہا ہے، جبکہ دیگر نشانہ بنائے گئے مقامات تک رسائی مشکل ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے خان یونس کے مشرق میں عبسان الکبیرہ کے وسط میں البشرہ مسجد کے قریب ناصر میڈیکل کمپلیکس میں نیوٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایمن ابو طیر کے گھر کو نشانہ بنایا۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر ابو طیر کے گھر سے اب تک 10 شہداء کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ 4 تاحال گھر کے ملبے تلے دبے ہیں۔
قابض فوج نے خان یونس کے مغرب میں الصماسمہ اسٹریٹ پر ابو معدی خاندان کے آباد ایک مکان پر بھی بمباری کی۔
بم حملے میں خان یونس کے مغرب میں واقع غیث کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں میں ہلاکتیں ہوئیں۔
مقامی ذرائع نے خان یونس کے علاقے مواصی میں بے گھر ہونے والے افراد کے ٹینٹ ہاؤس پر ہیلی کاپٹر کے حملے کے نتیجے میں متعدد شہری شہید زخمی ہوگئے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ خان یونس کے علاقے مواصی میں قابض فوج کی جانب سے بے گھر افراد کے خیموں پر کی جانے والی بمباری کے نتیجے میں بچوں سمیت 9 شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ فیلڈ ہسپتال 14 شہداء کی لاشیں لائی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق شہر پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں 32 شہداء خان یونس کے ناصر ہسپتال کے مردہ خانے پہنچائے گئے ہیںہ 10 شہداء کی لاشیں یورپین ہسپتال لائی گئی ہیں۔
غزہ شہر کے مغرب میں واقع شمالی ساحلی علاقے میں الاحرار کی عمارت پر اسرائیلی گولہ باری کے نتیجے میں متعدد افراد کے شہید اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
شمالی غزہ پر اسرائیلی گولہ باری کے نتیجے میں متعدد زخمی انڈونیشیا کے اسپتال پہنچائے گئے ہیں۔
قابض فوج کے طیاروں نے جبالیہ البلد میں اربکان سکول پر بمباری کی جس میں بڑی تعداد میں بے گھر افراد پناہ گزین تھے۔
شمالی غزہ کی پٹی میں شہریوں کے متعدد گھروں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں درجنوں زخمی تل الزعتر کے العودہ ہسپتال میں داخل کیے گئے۔
ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ قابض طیاروں نے وسطی غزہ کی پٹی کے علاقے دیر البلاح میں متعدد گھروں پر بمباری کی اور وہاں قتل عام کیا۔