نیو یارک (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) نیویارک میں فلسطینی نوجوانوں کی تحریک نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کی مخالفت اور پٹی کے مکینوں کو بے گھر کرنے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد کرنے کے لیے سینکڑوں امریکی کارکنوں کے ساتھ مل کر ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔
نیویارک کے مین ہٹن میں ٹائمز اسکوائر میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے ٹرمپ کی غزہ پر قبضے کے اعلان کو “مضحکہ خیز تجویز” قرار دیا۔مظاہرین کا کہنا تھاکہ یہ کبھی فروخت کے لیے نہیں ہوگا، اور فلسطینی عوام کی مرضی کو توڑا نہیں جائے گا۔
مظاہرین نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی فوج کے جرائم کے خلاف نعرے لگائے اور مظاہرین نے فلسطینی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ’’غزہ برائے فروخت نہیں‘‘ کے نعرے درج تھے۔
اس سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی ایوان نمائندگان کے رکن آل گرین نے کہا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ غزہ کے لیے اپنے منصوبے پر اصرار کرتے ہیں اور اس پر عمل درآمد شروع کرتے ہیں تو وہ انھیں عہدے سے ہٹانے کے لیے طریقہ کار شروع کر دیں گے۔
گرین نے الجزیرہ مباشر کی طرف سے نشر کیے گئے ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ “صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے مواخذے کا طریقہ کار استعمال کیا جا سکتا ہے اور صدر کو غیر آئینی کاموں یا ایسے اقدامات سے روکنے کے لیے ان کا مواخذہ ہوسکتا ہے‘۔
گرین نے اس بات پر زور دیا کہ “کانگریس کے ارکان کی اکثریت دونوں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں جو اس بات پر متفق ہیں کہ نسلی صفائی ناقابل قبول ہے۔ اگر ٹرمپ فلسطینیوں کو بے گھر کرتے ہیں تو اسے نسلی تطہیر اور امریکی آئین کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، اور صدر ان وحشیانہ کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال نہیں کر سکتے”۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ٹرمپ کے بیانات میں ایسی بہت سی چیزوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا جو فلسطینیوں کے لیے اہم ہیں، کیونکہ یہ سرزمین ان کا وطن ہے۔ غزہ کی پٹی لوگوں سے خالی نہیں کی جاسکتی کیونکہ فلسطینی ایک طویل عرصے سے وہاں رہ رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ “اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فلسطینیوں کو اس سرزمین پر ایک ریاست کا حق حاصل ہے جس پر وہ رہتے ہیں”
یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے غزہ کی پٹی کو خالی کرنے کی اپنی تجویز کو بارہا دہراتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ فلسطینیوں کو پٹی کو کنٹرول کرنے کے اپنے منصوبے کے تحت غزہ واپس آنے کا حق نہیں ہوگا، ان کے ساتھ کیے گئے انٹرویو کے اقتباسات اور پیر کو شائع ہوئے۔
خیال رہے کہ 4 فروری کو ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں غزہ پر امریکی قبضے کا تصور پیش کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو پڑوسی ممالک میں منتقل کریں گے اور غزہ کو مشرق وسطیٰ کا ’رویرا‘ بنائیں گے۔