تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
سب سے پہلے تو میں آپ سب کو عید کی مبارک باد دیتا ہوں۔ لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ فلسطین و لبنان اور یمن کے لوگوں کو کیسے عید مبارک باد کہوں ؟ جب فلسطین کی طرف دیکھتا ہوںتو غزہ ایک مرتبہ پھرجل رہا ہے، ملبہ کے ڈھیر پر موجود خیموں میں بسنے والے بے یار ومدد گار لوگ امریکی و اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن رہے ہیں۔ غزہ کے بچے یتیم ہیں، ہر طرف ایک اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ میں کس طرح ان فلسطین اور غزہ والوں کو عید مبارک کہہ دوں ؟ جن کے پیارے گذشتہ دنوں میں موت کی نیند سو چکے ہیں۔ جن پر امریکی و اسرائیلی دشمن نے جارحیت جاری رکھی ہوئی ہے۔ میں کس طرح غزہ والوں کو عید مبارک کہوں کہ غزہ کے میرے بچے بھوک اور پیاس کی شدت سے بلک رہے ہیں۔ ہاں امت اسلام کے لوگوں کو میں مبار باد دیتا ہوں کہ جنہوںنے روزہ بھی رکھا، نمازیں بھی انجام دیں، فطرہ و زکواۃ بھی ادا کی ہے۔تراویح بھی انجام دی، ختم قرآن بھی کیا اور نہ جانے اعتکاف کے ساتھ ساتھ ڈھیروں عبادات کو سمیٹا ہے۔پھر عید کی نمازیں پڑھنے کے بعد جوش و خروش سے اپنے پیاروں کے سینہ سے لگ کر عید کی مبارک بادیں دے رہیں ہیں۔لیکن میرا یہاں پر ان سب سے ایک سوال ہے کہ مجھے بتائیں آپ کی یہ ساری عبادت اور سب کچھ کس کام کا ہے اگر آپ کے بھائی اور بچے غزہ میں بھوک اور پیاس سے مر رہےہیں،یہ سب کچھ کس کام کا ہے کہ جب غزہ میں جارحیت ہے اور ہم ظلم پر خاموش ہیں۔ ایسی نماز اور روزہ کا کیا فائدہ ہوا کہ ہم فلسطین کےلوگوں کو نجات دلوانے میں کامیاب نہ ہوئے ؟ یہ سوچئے گا ضرور اور مجھے بھی بتائیے گا۔
فلسطین و غزہ کے بعد جب لبنان کی طرف نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے یہاں بھی دس ہزار سے زائد شہداء اور ان کے لواحقین نظر آ رہے ہیں ۔میں کس طرح اپنے لبنان کے بھائیوں کو عید کی مبارک باد دے دوں کہ جن کے گھروںکو اسرائیلی اور امریکی جنگی جہازوںنے بمباری کے ذریعہ منہدم کر رکھا ہے ۔ جن پر روزانہ معمول سے بمباری کی جا رہی ہے۔ جب کےگھر ملبہ کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں۔ بیروت شہر جو روشنیوں اور خوشیوں کا شہر تھا آج کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے تو میں ایسے حالات میں کس طرح لبنان والوں کو عید مبارک کہہ سکتا ہوں ؟ پھر سب سے بڑ ھ کر لبنان میں بسنے والی ایک عظیم شخصیت سید حسن نصر اللہ اور ان کے دنیا بھر میں کروڑوں چاہنے والوں کو کس طرح عید مبارک کہہ دوں ؟ میں دنیا کے سب لوگوں کو عید مبارک کہہ رہاہوں لیکن فلسطین و غزہ اور لبنان والوں کو کس منہ سے عید مبارک کہہ دوں ؟ جبکہ ہم نے ان کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ہم ان کی مدد کر سکتے تھے لیکن نہیں کی تو اب عید مبارک کس طرح کہہ سکتے ہیں؟ عید مبارک تووہ لوگ کہہ سکتے ہیںجنہوںنے عملی طور پر غزہ و لبنان والوں کے لئے مد دکی ہے اور ان کے لئے آواز بلند کی ہے ۔
اگر ہمارا شمار ایسے لوگوں میں سے ہے کہ صرف ہم نماز و روزہ میں مشغول رہے اور عبادات میں مصروف عمل رہے اور اپنے غزہ و لبنان کے بھائیوں کو فراموش کیا تو اب ہمیں یہ حق بھی نہیں ہے کہ ہم ان کو عید مبارک کہہ سکیں۔
عید ضرور منائیںلیکن فلسطین و غزہ اور لبنان و یمن کے مظلوم عوام کو یاد رکھیں کہ جو پوری انسا نیت اور امت مسلمہ کے تحفظ اور عزت و آبرو کی جنگ لڑ رہے ہیں اور میدان میں قربانیاں دیتے ہوئے اعلان کر رہے ہیں کہ ذلت کے راستے کو قبول نہیں کریں گے۔ یمن ولبنان کے لوگ امریکی اور اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں کیونکہ وہ عہد کر چکے ہیں کہ غزہ کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔کیا ہم نے ایسا کوئی عہد کیا ہے ؟ کیا ہم نے ایسا کوئی کام کیا ہے کہ ہم کہہ سکیں کہ ہم غزہ کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ؟ ہمیں سوچنا ہو گا اور آج ہی فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر چہ وقت کافی بیت چکا ہے لیکن دیر اب بھی نہیں ہوئی ہے ۔دیر آئے درست آئے کی بنیاد پر ہمیں آج بھی فیصلہ کر لینا چاہئیے اور یمن ولبنان والوں کی طرح غزہ کی حمایت سے کسی بھی صورت دستبردار نہ ہونےکا عز م مصمم کرنا چاہئیے ۔
آج ہم آنکھیں رکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں دیکھ رہے تو یقین رکھیئے کل قیامت کے دن ہمیں پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والی وسلم کی شفاعت نصیب نہیں ہو گی۔ آج وقت ہم سے تقاضہ کر رہاہے کہ اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ خاموش تماشائیوں کی صف سے نکل کر میدان والوں کی صف میں آئیں۔یہ کسیے ہو سکتا ہے کہ مسلم امہ ایک جسد واحد کی طرح ہو اور پھر اس جسد واحد کے ایک حصہ فلسطین سے خون رس رہا ہو اور جسد واحد درد بھی محسوس نہ کرے ، نہیں یہ ہر گز نہیں ہو سکتا ہے۔
مجھے ایک فلسطینی کے یہ جملے شدید کرب میں مبتلا کر رہے ہیں کہ اس نے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہاکہ ’آپ ’عید مبارک‘ کہہ سکتے ہیں اور اکٹھے ہو کر گھر والوں کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں لیکن آخر کون سی عید؟‘فلسطینی لڑکی کہتی ہے کہ ’کوئی رمضان نہیں، کوئی عید نہیں۔ ہماری روزمرہ کی زندگی میں کچھ بھی تو معمول پر نہیں۔ ہم صرف بیٹھ کر غزہ کے بارے میں سوچتے ہیں۔‘
خلاصہ یہ ہے کہ آپ ضرور عید منائیں آپ کو کسی نے منع نہیں کیا ہے۔ لیکن مظلوموں کے درد کو یاد رکھئیے ، بائیکاٹ جاری رکھیں، فلسطینی عوام کے لئے جو ممکن ہو ان کی مد د کریں۔ ایسے حالات میں کہ جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے درد پر خاموش تماشائی بنا رہے فلسطینیوں کے دکھ اور درد میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ آئیں اس عید پر ہم اپنے غزہ ، لبنان اور یمن کے مظلوم بھائیوں کو بھی اپنی خوشیوں میں یاد رکھیں اور پھر ان کے درد کا مداوا کرنے کے لئے عملی اقدامات انجام دیں