غزہ – (مرکز اطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن ) غزہ پر قابض اسرائیل کی طرف سے مسلط کی گئی نسل کشی کے آغاز سے ہی میدانِ جنگ صرف ملبے اور لاشوں تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی میڈیا بھی اس وحشت کا حصہ بن گیا۔ فلسطینی صحافی، جو سچائی دنیا تک پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے، صہیونی درندگی کے نشانے پر آ گئے اور مغربی ذرائع ابلاغ نے ان کے پیشہ ورانہ کردار پر شبہات ڈال کر ان کے قتل کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کی۔
امریکہ اور مغرب کے بڑے میڈیا ادارے قابض اسرائیل کے جھوٹے بیانیے کو فروغ دینے میں شریک ہو گئے، جس کے نتیجے میں فلسطینی صحافی ایک دوہری جنگ کا شکار ہوئے—ایک طرف صہیونی بمباری اور قتل عام، اور دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر ان کی ساکھ کو داغدار کرنے کی منظم مہم۔
قابض اسرائیل کے جھوٹ اور مغربی میڈیا کی پردہ پوشی
برطانوی صحافی جوناتھن کُک کے مطابق قابض اسرائیل نے جنگ کے آغاز سے ہی ایک منظم پروپیگنڈا تیار کیا تاکہ نسل کشی کو قانونی جواز دیا جا سکے اور فلسطینی صحافیوں کے قتل کو درست قرار دیا جا سکے۔ بچوں کے سروں کے کاٹنے، اجتماعی زیادتی اور “افرادان” جیسے ہولناک جھوٹ جب بے نقاب ہوئے تو بھی صہیونی مشینری نے نئے بہانے تراشے—ہسپتالوں کی تباہی، ڈاکٹروں اور صحافیوں کے قتل اور امدادی قافلوں کو روکنے تک کا دفاع کیا گیا۔
کُک نے مزید کہا کہ مغربی میڈیا کا کردار اس سے بھی خطرناک ہے۔ جرمنی کا اخبار بلڈ اور برطانیہ کی بی بی سی نے اسرائیلی بیانیے کو بغیر تحقیق قبول کر لیا۔ الجزیرہ کے شہید نامہ نگار انس الشریف کے قتل کو “غزہ میں ایک دہشت گرد صحافی کی ہلاکت” کے طور پر پیش کیا گیا، گویا قابض اسرائیل کا ہر جھوٹ حقیقت ہے۔ اس مکروہ رویے نے صرف دو برسوں میں 240 سے زائد فلسطینی صحافیوں کے قتل کو سندِ جواز فراہم کی—جو جنگی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
مغربی میڈیا کا ڈھانچہ جاتی تعصب
کُک کے مطابق مغربی ذرائع ابلاغ کا یہ رویہ ڈھانچہ جاتی تعصب کو ظاہر کرتا ہے، جہاں عربوں اور فلسطینیوں پر ہر الزام فوراً درست مان لیا جاتا ہے، لیکن اسرائیلی بیانیے کو ہمیشہ صداقت کا درجہ دیا جاتا ہے۔ عرب صحافیوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ یا دیگر فلسطینی مزاحمتی تحریکوں سے لاتعلقی ظاہر کریں، جبکہ اسرائیلی صحافی کھلے عام قتل اور جنگی جرائم میں شریک ہونے کے باوجود بے قصور سمجھے جاتے ہیں۔
فرانس میں اسرائیلی بیانیے کا تسلط
فرانسیسی صحافی سارہ غرارہ کے مطابق اسرائیلی بیانیہ آج بھی فرانس کے میڈیا پر غالب ہے، باوجود اس کے کہ بنجمن نیتن یاہو پر عالمی عدالت کا گرفتاری وارنٹ جاری ہے۔ انس الشریف کے قتل کے بعد فرانسیسی صحافیوں نے اس کی تصاویر حماس کے رہنماؤں کے ساتھ شائع کر کے اس کی ساکھ کو مشکوک بنانے کی مذموم کوشش کی، حالانکہ یورپی صحافی اکثر آمر حکمرانوں یا مجرموں کے ساتھ تصاویر کھنچواتے ہیں۔
غرارہ کا کہنا ہے کہ مغربی صحافت ہمیشہ اسرائیلی ریاست کو “دفاع کرنے والا” اور فلسطینیوں کو “مجرم” بنا کر پیش کرتی ہے، چاہے اسرائیلی صحافی خود جنگی جرائم میں شریک ہوں۔
امریکہ میں منافقت
نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر محمد بازی کے مطابق امریکہ میں فلسطینی صحافیوں کے قتل پر تقریباً مکمل خاموشی رہی، جبکہ روس میں گرفتار مغربی صحافی ایوان گرشکووچ کے حق میں عالمی سطح پر مہم چلائی گئی۔ فلسطینی صحافی انس الشریف کے تحفظ کا مطالبہ عالمی اداروں نے کیا، لیکن امریکی میڈیا نے جان بوجھ کر اسے نظر انداز کر دیا۔ بازی کے مطابق یہ منافقت ہے کہ مغربی میڈیا اپنے نمائندوں کے لیے دنیا کو ہلا دیتا ہے لیکن فلسطینی صحافیوں کے خون کو بے وقعت سمجھتا ہے۔
جھوٹ کا آلہ کار: استعماری میڈیا
یہ تمام حقائق اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ مغربی ذرائع ابلاغ قابض اسرائیل کی نسل کشی اور درندگی کے شریکِ جرم ہیں۔ وہ فلسطینی صحافیوں کے خون پر پردہ ڈال کر انسانی تاریخ کی سب سے بڑی دہشت گردی کو دوام بخشتے ہیں۔ مغربی میڈیا اب استعماری نظام کا ہتھیار بن چکا ہے، جو طے کرتا ہے کس کی آواز سنی جائے گی اور کس کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کر دی جائے گی۔