غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے قابض صہیونی فوج کے ہاتھوں جبری اغواء کے بعد پہلی بار تصویر سامنے آئی ہے جس میں انہیں ہتھ کڑیوں میں جکڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے چہرے پر تھکن اور تشدد کے آثار نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ جیل کے اندر دیکھے گئے۔ عبرانی میڈیا کی ایک رپورٹ میں ان کی گرفتاری کے بعد پہلی بار انہیں دیکھا گیا ہے۔
ابو صفیہ نےایک مختصر ویڈیو کلپ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہیں ہتھکڑیاں لگا ئی گئی ہیں۔
ابو صفیہ جسمانی طور پر تھکے ہوئے اور چلنے پھرنے کے قاصر دکھتے ہیں۔
قابض اسرائیلی فوج نے 27 دسمبر 2024 کو ابو صفیہ کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ شمالی غزہ کی پٹی میں فوجی آپریشن کے دوران کمال عدوان ہسپتال میں اپنا انسانی خدمت کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔
قابض فوج نے47 دنوں تک وکیل سے ملنے سےمحروم رکھا اور ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس سے قبل 12 فروری کو قابض فوج کے جنوبی علاقے کے کمانڈر نے زیر حراست 52 سالہ ڈاکٹر ابو صفیہ کو باقاعدہ ٹرائل کے بجائے “غیر قانونی جنگجو” قانون کی بنیاد پر حراست میں منتقل کرنے کا حکم جاری کیا، جس کا مطلب ہے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی شہری کو بغیر کسی الزام کے چھ ماہ تک پابند سلاسل رکھا جا سکتا ہے۔
ابو صفیہ نے کمال عدوان ہسپتال کے محاصرے کے دوران اپنا بیٹا کھو دیا تھا اور وہ اسرائیلی گولہ باری سے خود زخمی بھی ہوئے۔ قابض فوج نے ہسپتال کو مریضوں اور طبی عملے سے خالی کرکے اسے آگ لگا دی تھی۔ ان میں سے متعدد شہری شہید اور زخمی ہو گئے تھے اور پھر ابو صفیہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔