نیویارک ۔(مرکز اطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن ) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور کی ہم آہنگی (اوچا) نے متنبہ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال نہ بدلی تو غزہ میں قحط بدترین صورت اختیار کر جائے گا اور اس کے تباہ کن اثرات مزید پھیلیں گے۔
’اوچا‘ کی ترجمان اولگا چیریفکو نے غزہ کی تازہ انسانی صورتحال پر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل کے مسلسل محاصرے اور دانستہ طور پر مسلط کردہ بھوک نے قحط کو تیزی سے بڑھا دیا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے غذائی سلامتی کے جامع تجزیے (آئی پی سی) کی تازہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ شمالی غزہ میں قحط کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے اور خدشہ ہے کہ یہ وبا وسطی علاقے دیر البلح اور جنوبی شہر خان یونس تک ستمبر کے اختتام تک پھیل جائے گی۔
چیریفکو نے واضح کیا کہ رپورٹ کے نتائج کسی طور حیران کن نہیں، کیونکہ ادارہ کئی ماہ سے اس خطرے کی نشاندہی کرتا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حالات جوں کے توں رہے تو قحط کی تباہی اور بھی گہری اور جان لیوا شکل اختیار کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اگر موجودہ بحران کا جامع اور درست حل تلاش نہ کیا گیا تو غزہ کے دیگر علاقوں کو بھی قحط لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں قحط روکنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ فوری طور پر شہریوں کے لیے بڑی مقدار میں انسانی امداد داخل کی جائے، رکاوٹیں ختم کی جائیں اور اس امداد کی ترسیل کے لیے محفوظ و مستقل راستہ فراہم کیا جائے۔
اوچا کی ترجمان نے اعتراف کیا کہ اب تک کئی ایسی اموات واقع ہو چکی ہیں جنہیں بروقت امداد کی فراہمی سے بچایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انسانی المیہ مکمل طور پر انسانوں کے پیدا کردہ حالات کا نتیجہ ہے، جسے وقت پر مداخلت سے روکا جا سکتا تھا مگر افسوس کہ ضروری اقدامات نہیں کیے گئے۔
انہوں نے سخت انتباہ دیا کہ عالمی برادری اور متعلقہ فریقین نے ابھی تک یہ سمجھنے کی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی کہ اگر فوری اقدام نہ ہوا تو غزہ میں آنے والے دن کتنے ہولناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے قابض اسرائیل کے سخت محاصرے اور غذائی قلت کے باعث اب تک 303 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 117 معصوم بچے شامل ہیں۔