غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا ہے کہ اسرائیلی کنیسٹ کے دہشت گرد ڈپٹی سپیکر نیسیم واتوری کا وہ بیان جس میں اس نے غزہ میں تمام بالغ فلسطینیوں کے قتل کا مطالبہ کیا ہے نسلی تطہیر کی پالیسی کا منظم اظہار اور کھلی اشتعال انگیزی ہے۔
حماس نے پیر کے روز ایک پریس بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ بیانات گذشتہ پندرہ مہینوں کے دوران ہمارے فلسطینی عوام کے خلاف قابض رہنماؤں کے درمیان جنگی مجرموں کی طرف سے جاری نسل کشی کے راستے کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مجرمانہ بیانات جو کہ قابض رہنماؤں کی طرف سے بین الاقوامی قانون کی ذرا بھی پرواہ کیے بغیر اور امریکی انتظامیہ کے مکمل تحفظ کے تحت جاری کیے گئے ہیں کے بعد بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی عدالتی اداروں، خاص طور پر بین الاقوامی فوجداری عدالت سے مذمت اور فوری بین الاقوامی کارروائی کی جانی چاہیے۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کے جرائم میں ملوث صہیونیوں کو کٹہرے میں لانے انہیں قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔
خیال رہے کہ واتوری نے کہا تھا کہ غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کیا جائے اور تمام بالغ مردوں کو قتل کردیا جائے۔ اس کے اس اشتعال انگیز بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔