طولکرم (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور نام نہاد صہیو نی ریاست کے انتہا پسند وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے شمالی مغربی کنارے میں طولکرم کیمپ کے مضافات میں ایک گھر پر دھاوا بول دیا۔
نیتن یاہو کا چھاپہ وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کے اسی طرح کے اقدام کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے طولکرم کیمپ میں ایک فلسطینی گھر کے اندر نیتن یاہو اور کئی اسرائیلی قابض فوج کے افسران کی تصویر شائع کی۔
تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ فوجیوں نے فلسطینیوں کے گھر کی ایک دیوار پر اسرائیلی جھنڈا اور قابض فوج کے بریگیڈ کے جھنڈے لگا رکھے تھے۔
نیتن یاہو نے تلکرم کیمپ کے دورے کے دوران کہا کہ انہوں نے کل بسوں پر ہونے والے دھماکوں کے جواب میں مغربی کنارے میں اضافی فوجی آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاھو اپنے سپاہیوں کی مدد کے لیے ’یوم سبت‘ کی سرکاری تعطیل سے قبل طولکرم کیمپ میں داخل ہوا۔ اس دوران قابض صہیونی فوج کو فلسطینیوں کے گھروں اور سڑکوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری تھا۔
قابض اسرائیلی فوج کا شمالی مغربی کنارے کے شہر طولکرم اور اس کے کیمپ پر مسلسل 26ویں روز بھی جارحیت جاری ہے جب کہ نور شمس کیمپ پر حملہ 13ویں روز بھی جاری ہے۔
جمعرات کو اسرائیلی فوج کی گاڑی تلے روندے جانے کے نتیجے میں شہید ہونے والے احمد ریاض عوض کی شہادت کے بعد شہادتوں کی تعداد 13 ہو گئی۔
وحشیانہ فوجی مہم کے نتیجے میں تقریباً 10,500 فلسطینی بے گھر ہوئے، جس سے طولکرم کیمپ کی 85 فیصد آبادی بے گھر ہوگئی۔ اس جارحیت کے نتیجے میں 603 مکانات اور سہولیات مکمل طور پر تباہ ہوئیں، جب کہ قابض فوج نے تقریباً 147 شہریوں کو گرفتار کیا اور 237 گھروں پر چھاپے مارے۔