بیروت (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد شہری شہید اور زخمی ہوگئے ہیں۔
قابض اسرائیلی فوج نے یہ بمباری بیروت کے جنوبی مضافات میں واقع ایک عمارت کو نشانہ لیتے ہوئے کی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘روئٹرز’ کے مطابق نومبر 2024 میں اسرائیل وحزب اللہ کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیلی فوج نے بمباری کی ہے۔
اسرائیلی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے علاقے میں ‘ڈرون سٹوریج’ کی تنصی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سیکیورٹی سے متعلق ذریعے نے ‘روئٹرز’ کو بتایا ہے کہ اس بمباری کی آواز بیروت بھر میں سنی گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے علاقے کے لوگوں کو انخلاء کا حکم دیا اور پھر عمارت پر تین ڈرون حملے کیے۔ جن ک امقصد انتباہ کرنا تھا۔
‘روئٹرز’ کے مطابق اسرائیلی فوج کے انخلاء کے حکم نامے نے شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔ لوگ گھروں سے بھاگتے ہوئے نکل رہے تھے اور سڑکوں پر ٹریفک جام تھی۔
یاد رہے ستمبر 2024 میں اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافات میں واقع حزب اللہ کے مضبوط گڑھ کو نشانہ بناتے ہوئے حزب اللہ سربراہ حسن نصراللہ کو قتل کر دیا تھا۔
اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے کہا ‘لبنانی حکومت اس حملے کی براہ راتس ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ جس کا کہنا ہے کہ جب تک گلیل میں امن نہیں ہوگا بیروت میں بھی امن نہیں ہوگا۔’
خیال رہے اسرائیلی وزراء اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی جنہوں نے 2023 میں حزب اللہ کے حملوں کے بعد اپنے علاقوں اور گھروں کو خالی کر دیا تھا۔ اب وہ بحفاظت اپنے گھروں اور علاقوں میں واپس آسکیں گے۔
حزب اللہ کے جاری کردہ بیان میں ان حملوں سے کسی قسم کا تعلق ہونے کی تردیدی کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے ‘یہ حملے اسرائیل و لبنان کے درمیان مفاہمت کی خلاف ورزی ہیں اور شہریوں کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔’
لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری پر یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ اسرائیل کو معاہدے پر عمل کرنے پر مجبور کیا جائے اور ان حملوں کو ختم کیا جائے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر برائے لبنان جنین ہینس نے کہا ‘جنوبی سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ سخت تشویشناک ہے۔’
انہوں نے مزید کہا ‘گولی کا تبادلہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ لبنان میں تنازعے کی واپسی ‘بلیو لائن’ کے اطراف میں رہنے الاے شہریوں کے تباہ کن ہوگی۔ اس سے ہر قیمت پر گریز کیا جانا چاہیے۔’