غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” نے غاصب صہیونی دشمن کے ہاتھوں بیباس خاندان کے بچوں کے قتل کے بارے میں قابض اسرئیل کی طرف سے بیان کردہ جھوٹے الزامات اور حماس پر الزام لگانے کی کوشش کی شدید مذمت کی ہے۔
حماس نے ہفتے کی شام ایک اخباری بیان میں کہا کہ یہ الزامات جھوٹ اور من گھڑت باتوں کے سوا کچھ نہیں ہیں جن کی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔ صہیونی میڈیا فلسطینی مزاحمت کی شبیہ کو مسخ کرنے اور ہمارے لوگوں کے خلاف قابض ریاست کے جرائم کو جواز فراہم کرنے کی مذموم مہم چلا رہا ہے۔
حماس نے اس بات پر زور دیا کہ مزاحمت نے پوری ایمانداری اور ذمہ داری کے ساتھ قیدیوں کی زندگیوں کا تحفظ کیا، اپنے اسلامی اخلاق اور انسانی اقدار کی پاسداری کی، یہاں تک کہ اس نے کسی خاتون قیدی کے ساتھ رہنے والے کتے کو بھی نقصان نہیں پہنچایا اور اس کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا، جو حماس کے اخلاقی اور مذہبی اصولوں کے ساتھ اس کی گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔
بیان میں ز ور دے کر کہاگیا ہے کہ یہ جھوٹے الزامات مجرم قابض صہیونی دشمن کی طرف سے قیدیوں کے خاندانوں کے جذبات سے کھلواڑ کرنے اور نیتن یاہو اور اس کی انتہا پسند دہشت گرد حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی غصے کو ہٹانے کی ایک کھلی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ قابض صہیونی فوج نےغزہ میں جاری ڈیڑھ سال کہ جارحیت کے دوران 9,268 بار قتل عام کا ارتکاب کیا، جس کی وجہ سے 2,092 خاندانوں کی نسل ختم ہوگئی۔ 4,889 خاندانوں کا کوئی ایک فرد ہی زندہ بچا۔
قابض ریاست کی طرف سے کی گئی نسل کشی کے نتیجے میں 17,881 بچے شہید ہوئے، جن میں 214 شیر خوار بچے بھی شامل تھے جو جارحیت کے دوران پیدا ہوئے اور شہید ہوگئے۔ 38,000 سے زائد بچے یتیم ہوئے، جن میں 17,000 بچے بھی شامل تھے جنہوں نے دونوں والدین کو کھو دیا۔