Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Palestine

اقوام متحدہ کی غزہ کی تعمیر نو کے لیے 53 ارب ڈالر فراہم کرنے کی اپیل

غزہ  (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلط کی گئی جنگ سے تباہی کے بعد پٹی کی تعمیر نو کے لیے 53 ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہوگی، جس میں پہلے تین سالوں میں 20 بلین ڈالر سے زیادہ کی رقم درکار ہوگی۔

“غزہ کی پٹی کی مختصر، درمیانی اور طویل مدتی بحالی اور تعمیر نو کے لیے درکار رقم کا تخمینہ 53.142 بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے جنرل اسمبلی کی درخواست پر تیار کردہ ایک رپورٹ میں لکھا کہ”اس رقم میں سے، ابتدائی تین سالوں کے لیے درکار قلیل مدتی فنڈز کا تخمینہ 56 ارب ڈالر ہے”۔

دسمبر میں منظور کی گئی ایک قرارداد میں غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئےاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سیکرٹری جنرل سے کہا تھا کہ وہ دو ماہ کے اندر فلسطینی علاقے کی مختصر، درمیانی اور طویل مدتی ضروریات کا جائزہ پیش کریں۔

منگل کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ”اگرچہ موجودہ تناظر میں غزہ کی پٹی میں درکار ضروریات کی حد کا مکمل جائزہ لینا ممکن نہیں ہے، لیکن تیز رفتار عبوری تشخیص پٹی میں بحالی اور تعمیر نو کے تناظر میں بڑے پیمانے پر ضروریات کا ابتدائی اشارہ فراہم کرتا ہے”۔

رپورٹ میں اشارہ کیا گیا کہ اکتوبر 2023 ءسے جاری جنگ میں 60 فیصد سے زیادہ مکانات” تباہ ہونے کے بعد ہاؤسنگ سیکٹر کو تعمیر نو کی ضروریات کا تقریباً 30 فیصد، یا 15.2 بلین ڈالر درکار ہوں گے۔

اس کے بعد تجارت اور صنعت کے شعبے کے لیے 6.9 ارب ڈالر، صحت کے شعبے کی بحالی کے لیے6.9 ، زراعت کے لیے4.2 ارب ڈالر ،
سماجی تحفظ کے لیے4.2 ارب ڈالر، ٹرانسپورٹ کے لیے2.9 ارب ڈالر، پانی اور صفائی کے شعبے کے لیے 2.7 ارب ڈالر اور تعلیم کے شعبے کے لیے 2.6 بلین درکار ہیں۔

رپورٹ میں خاص طور پر ماحولیاتی سیکٹر کے لیے متوقع بلند لاگت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اس تنازعے نے اپنے پیچھے 50 ملین ٹن سے زیادہ ملبہ چھوڑا ہے، جس میں انسانی باقیات کے ساتھ ساتھ نہ پھٹنے والے ہتھیار، ایسبیسٹوس اور دیگر خطرناک مواد بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب انتونیو گوٹیرس نے زور دیا کہ “کسی بھی بحالی اور تعمیر نو کی کوشش کو ایک وسیع تر سیاسی اور سکیورٹی فریم ورک میں مضبوطی سے شروع کیا جانا چاہیے تاکہ غزہ کو ایک آزاد، جمہوری، قابل عمل اور خودمختار فلسطینی ریاست کا اٹوٹ حصہ سمجھا جائے”۔

خیال رہے کہ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور قابض اسرائیل غزہ کی پٹی کی آبادی کو وہاں سے نکال پر اس پر قبضےکے منصوبے بنا رہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan