غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے حکام اور بین الاقوامی تنظیموں نے منگل کے روز قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر کی گی نسل کشی کی کارروائی کے بعد غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط کی پاسداری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
قابض اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح غزہ پر تباہ کن جنگ مسلط کی تھی کی جس میں پٹی کے بیشتر علاقوں کوبہ یک وقت نشانہ بنایا گیا۔فجر سے پہلے سحری کے وقت کی گئی اس ننگی جارحیت کے دوران 420 فلسطینی شہید اور 560 سے زائد زخمی ہوئے۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے غزہ پر اسرائیلی جنگ کی بحالی پر گہرے “صدمے” کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ کیا۔
ترجمان رولانڈو گومز نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں جہاں گوتیرس نے قبرص پر غیر رسمی بات چیت کر رہے ہیں کہا کہ “سیکرٹری جنرل غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں سے حیران ہیں”۔
گوتیرس نے جنگ بندی کے احترام، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک بحالی اور بقیہ یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی کے لیے پرزور اپیل کی۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے منگل کے روز غزہ میں جنگ بندی کے نازک معاہدے کے جنوری میں عمل میں آنے کے بعد سے اب تک کے سب سے شدید اسرائیلی فضائی حملوں پر اپنے صدمے کا اظہار کیا، جس میں سینکڑوں افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔
وسطی غزہ کی پٹی میں ایک فلسطینی اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے اپنے خاندان کے افراد کو الوداع کہہ رہا ہے۔
ترک نے ایک بیان میں کہاکہ “میں غزہ میں گذشتہ رات کے اسرائیلی حملوں اور گولہ باری سے حیران ہوں، جس میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق سینکڑوں افراد شہید ہوئے۔ ترک نے ایک بیان میں مزید کہا کہ جو کچھ ہوا وہ غزہ میں “سانحہ کو بڑھاتا ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے مزید فوجی طاقت کا سہارا لینے سے فلسطینی عوام کے مصائب میں مزید اضافہ ہوگا جو پہلے ہی تباہ کن حالات سے دوچار ہیں۔