غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں سرکاری میڈیا آفس نے غزہ شہر کے دارالارقم سکول پر بمباری اور بچوں اور خواتین سمیت بچوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی ہے۔ اس وحشیانہ قتل عام میں 18 بچوں، ایک خاتون اور ایک بزرگ سمیت 29 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔
فلسطین کے سرکاری میڈیا آفس نے امریکی انتظامیہ اور اس کے ساتھ شریک ممالک کو غزہ کی پٹی میں شہریوں کے خلاف جاری نسل کشی کے قتل عام کا مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا۔
سرکاری میڈیا آفس نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ جرم نسل کشی کے جرائم کے قابض کے طویل ریکارڈ میں اضافہ ہے، کیونکہ اس نے اب تک 229 نقل مکانی اور پناہ گاہوں کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جو کہ چوتھے جنیوا کنونشن سمیت تمام بین الاقوامی کنونشنوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ جاری وحشیانہ اسرائیلی جارحیت ایک غیر مسبوق انسانی تباہی کے دوران جاری ہے۔ غزہ کے ہسپتالوں کے پاس زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا انتہائی مشکل بن چکا ہے۔
سرکاری پریس آفس نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تمام تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کریں اور قابض اسرائیل کے ان وحشیانہ قتل عام کی مذمت کرنے کے لیے فوری اقدام کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری قابض اسرائیل پر اس کے جرائم کی روک تھام کے لیے دباؤ ڈالے۔
انہوں نے کہا کہ”اسرائیلی” جنگی مجرموں کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کی جائیں۔
اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی التفاح کالونی میں دارار ارقم سکول کو نشانہ بنایا، جس میں سیکڑوں بے گھر افراد رہائش پذیر ہیں، کئی میزائلوں سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا، درجنوں افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ شہری دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ مزید درجنوں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔