غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے سربراہ کے مشیر طاہر نونو نے الجزیرہ مباشر کو بتایا ہےکہ جماعت کے رہ نماؤں نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ ملاقات خطے میں استحکام کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ انہوںنے اس بات پر زور دیا کہ امریکی سیاسی گفتگو میں تبدیلی آ رہی ہے جو سابقہ انتظامیہ سے مختلف ہے، جس سے خطے میں ایک جامع ڈیل تلاش کرنے کا راستہ کھل سکتا ہے۔
انہوں نے میڈیا کے بیانات میں مزید کہا کہ عرب موقف اور عوامی دباؤ امریکی صدر کے نقل مکانی کے منصوبے کو تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ عرب سربراہی اجلاس میں ایسے نکات تھے جن کی بنیاد پر نقل مکانی کے منصوبے کا مقابلہ کرنے کا مجوزہ منصوبہ ایک سمارٹ منصوبے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
حماس کے رہ نما نے اس بات پر زور دیا کہ داخلی فلسطینی صف بندی کو قومی شراکت اور انتخابات کی بنیاد پر دوبارہ منظم کیا جانا چاہیے۔ قاہرہ میں آئندہ اجلاس میں فلسطینیوں کی قیادت کو شرکت کا موقع دے کر قومی اتحاد کے روڈ میپ پر عمل کرنا چاہیے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ان کی جماعت قاہرہ کے اجلاسوں میں متفقہ حکومت کے قیام اور انتخابات کے انعقاد تک ایک عارضی امدادی کمیٹی کے قیام کی مصری تجویز پر متفق تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی ہے اور وہ اس پر کاربند ہیں اور دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات کے آغاز کا انتظار کر رہے ہیں۔
غزہ میں غیر فلسطینی قوتوں کے بارے میں حماس کے مشیر طاہر نونو نے اس بات پر زور دیا کہ پٹی میں ان کی موجودگی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ فلسطینی عوام اور حماس کے لیے اس معاملے کو قبول کرنا مشکل ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور انتہائی دائیں بازو کے ساتھ ان کے اتحادی ہیں۔
غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے مذاکزات میں گزشتہ روز ایک اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی، کیونکہ وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکی انتظامیہ واشنگٹن اور حماس تحریک کے درمیان براہ راست مذاکرات کرنے کے امکان کے حوالے سے اسرائیل سے مشاورت کر رہی ہے۔
نیتن یاہو نے 4 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد اپنے مذاکراتی وفد کو دوحہ بھیجنے سے روک دیا تھا۔اس نے ایک تکنیکی وفد بھیجا جو معاہدے کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات کا مجاز نہیں تھا۔
بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے پٹی پر سخت محاصرہ کرنے کے فیصلے کی بنیاد پر قابض حکام نے مسلسل پانچویں روز بھی غزہ کی پٹی میں ہر طرح انسانی امداد، خوراک اور طبی امداد کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ غزہ کے لوگ بہت سی بنیادی اشیاء کی شدید قلت کا شکار ہیں۔