دی ہیگ(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) بین الاقوامی عدالت انصاف نے افریقی یونین کی طرف سے دی گئی درخواست پر یونین کو اختیار دیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اقوام متحدہ، دیگر بین الاقوامی اداروں اور تیسری ریاستوں کی سرگرمیوں میں شرکت کے حوالے سے قابض ریاست اسرائیل کی ذمہ داریوں پر مشاورتی کارروائی میں حصہ لے۔
عدالت کے بیان کے مطابق اور عدالت کے آئین کے آرٹیکل 66 کی بنیاد پر قائم مقام چیف جسٹس جولیا سیبوٹیندے نے فیصلہ کیا کہ افریقی یونین ممکنہ طور پر جنرل اسمبلی کے ذریعے عدالت میں جمع کرائے گئے سوال پر معلومات فراہم کر سکے گی۔
انہوں نے مزید کہاکہ ” افریقی یونین صدر کے حکم کے ذریعے مقرر کردہ وقت کی حد کے اندر 28 فروری تک اس معاملے پر تحریری بیان جمع کر سکتی ہے”۔
انیس دسمبر 2017 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس میں بین الاقوامی عدالت انصاف سے مشاورتی رائے کی درخواست کی گئی کہ آیا قابض اسرائیل بہ طور قابض طاقت اور اقوام متحدہ کے رکن کے طور پر اس کے ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کررہا ہے یا نہیں۔ نیز وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے حوالےسے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کوکس حد تک پوری کررہاہے۔
اس کا مقصد فلسطینی شہری آبادی کی بقا، بنیادی خدمات، انسانی اور ترقیاتی امداد، فلسطینی شہری آبادی کے مفادات اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کے لیے ضروری سامان کی فراہمی کو یقینی بنانا اور اس میں سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔