صنعاء (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جمعہ کو یمن کی انصار اللہ تحریک کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے قابض “اسرائیل” کو غزہ کی پٹی میں انسانی امداد پہنچانے کے لیے 4 دن کی مہلت دی ہے، اور دھمکی دی ہے کہ ان کی تحریک اسرائیلی اہداف کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرے گی۔
الحوثی نے ایک تقریر میں کہاکہ “فلسطین کی صورت حال میں پیشرفت اور اسرائیلی دشمن کی طرف سے حالیہ کشیدگی کی روشنی میں ہمیں اپنے موقف کا اعلان کرنا چاہیے”۔
انہوں نے مزید کہاکہ “ہم پوری دنیا کو اعلان کرتے ہیں کہ ہم ثالثوں کو 4 دن کی ڈیڈ لائن دیں گے۔ اس کے بعد ہم اسرائیلی دشمن کے خلاف اپنی بحری کارروائیاں دوبارہ شروع کریں گے۔ اگر اس نے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد پہنچانے کی اجازت نہیں دی اور غزہ کا محاصرہ جاری رہا توہم اسرائیلی جہازوں کو روکنے کے لیے اقدامات کریں گے‘۔
الحوثی نے نشاندہی کی کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے دوران، یہ واضح تھا کہ قابض اسرائیل اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں تاخیر کر رہا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ حماس معاہدے میں اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر پورا کرنے کی خواہش مند ہے، جب کہ قابض اسرائیل انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے فرار اختیار کررہا ہے، جس میں انسانی حقوق بھی شامل ہیں۔
گذشتہ اتوار کی صبح قابض حکومت نے 42 دنوں تک جاری رہنے والے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے خاتمے کے ساتھ ہی غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے داخلے کو روکنے کا فیصلہ کیا۔