مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سپریم اسلامک کونسل کے سربراہ اور مسجدِ اقصیٰ کے مایہ ناز خطیب فضیلت الشیخ عکرمہ صبری نے کہا ہے کہ ان کے خلاف دائر کردہ من گھڑت چارج شیٹ پر غور کے لیے منعقدہ حالیہ عدالتی سیشن کے دوران ان کی دفاعی ٹیم نے ایک انتہائی “منطقی اور جاندار موقف” پیش کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا جو بیانیہ قابض دشمن کی عدالت میں بنیاد بنایا گیا ہے وہ خالصتاً ایک “مشروع مذہبی خطاب ہے جس کی قانونی طور پر مکمل ضمانت حاصل ہے”۔
الشیخ عکرمہ صبری نے عدالتی کارروائی کے فوراً بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی دفاعی ٹیم نے اسلامی اقدار اور مذہبی نقطہ نظر کے تحت ایک “کامیاب مرافعت اور مدلل مہم” چلائی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کے خطبات اور بیانات میں شامل تمام تر مذہبی اصطلاحات و تعبیرات قانونی طور پر مکمل جائز اور مباح ہیں۔
کیس کی تفصیلات اور چارج شیٹ کے مطابق قابض صیہونی دشمن نے یہ ظالمانہ مقدمہ الشیخ عکرمہ صبری کے ان تعزیتی کلمات کی وجہ سے قائم کیا ہے جو انہوں نے مقبوضہ بیت المقدس اور جنین پناہ گزین کیمپ میں منعقدہ شہدا کی تعزیتی مجالس کے دوران ادا کیے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ان پر یہ گھناؤنا الزام بھی تھوپا گیا ہے کہ انہوں نے سنہ 2024ء میں مسجدِ اقصیٰ کے منبر سے خطبہ جمعہ کے دوران اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے سابق پولیٹیکل بیورو کے سربراہ شہید اسماعیل ہنیہ کے لیے دعائے مغفرت کی تھی۔
الشیخ عکرمہ صبری نے پختہ لہجے میں کہا کہ ان کی دفاعی ٹیم نے ان کے خلاف لگائے گئے ان تمام بے بنیاد الزامات سے ان کی مکمل براءت کو ثابت کرنے کے لیے کام کیا ہے کیونکہ یہ پورا معاملہ صرف ایک مذہبی خطاب سے جڑا ہوا ہے جو شرعی اور قانونی طور پر جائز حدود سے باہر نہیں ہے۔
دوسری طرف ان کی قانونی دفاعی ٹیم نے اس من گھڑت چارج شیٹ کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ الشیخ عکرمہ صبری نے کسی بھی قسم کی کوئی قانونی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور اس مقدمے میں اٹھائے گئے تمام امور ایک جائز مذہبی و قانونی دائرہ کار کے اندر آتے ہیں جنہیں ہر صورت تحفظ ملنا چاہیے۔
الشیخ عکرمہ صبری کی دفاعی کمیٹی کے ممتاز رکن اور نامور وکیل خالد زبارکہ نے بتایا کہ یہ عدالتی سیشن خاص طور پر الشیخ عکرمہ صبری کے خلاف عائد کردہ تینوں الزامات کا جواب دینے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی ٹیم نے چارج شیٹ کے ان تینوں نکات کا نہایت تفصیلی جواب دیا ہے اور الشیخ پر لگائے گئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان کا تار پود بکھیر دیا ہے اور اس بنیادی اصول کو ہی باطل ثابت کر دیا ہے جس پر یہ جھوٹا دعویٰ کھڑا کیا گیا تھا۔
خالد زبارکہ نے مزید وضاحت کی کہ دفاعی ٹیم نے جنین اور شعفاط کیمپوں کے غیور شہدا کے اہل خانہ سے الشیخ کی طرف سے کی جانے والی تعزیت کے پس منظر میں عائد کردہ “دہشت گردی کی تائید” کے تمام مضحکہ خیز الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے ثابت کیا کہ الشیخ کے یہ انسانی اور مذہبی مواقف “سات اکتوبر سنہ 2023ء کے واقعات سے بہت پہلے کے ہیں اور ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے”۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ “ہم نے عدالت کے سامنے یہ مؤقف واضح کیا کہ ان شہدا کے لواحقین سے الشیخ عکرمہ صبری کی تعزیت خالصتاً ایک دینی اور سماجی پس منظر میں تھی اور اس کا بعد کے ان واقعات سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے جنہیں غاصب دشمن کی نیابتِ عامہ (پبلک پراسیکیوشن) زبردستی اس کیس کے ساتھ جوڑنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے”۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ قابض دشمن کی عدالت نے گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے اور اس فائل پر بقیہ غور و خوض مکمل کرنے کے لیے کیس کی سماعت آئندہ ستمبر کے مہینے تک ملتوی کرنے کا فیصلہ سنادیا ہے۔
چارج شیٹ کے مطابق اس انتقامی مقدمے کی جڑیں سنہ 2022ء سے ملتی ہیں جب الشیخ عکرمہ صبری نے مقبوضہ بیت المقدس میں مردِ حر شہید عدی التمیمی اور جنین میں عظیم مجاہد شہید رائد خازم کے پسماندگان کے تعزیتی اجتماعات میں شرکت کر کے خطابات کیے تھے، جس کے بعد اب حال ہی میں مسجدِ اقصیٰ کے منبر سے قائدِ تحریک اسماعیل ہنیہ شہید کے لیے ترحم اور دعائے مغفرت کرنے کے معاملے کو بھی انتقاماً اس کیس کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 87 سالہ جلیل القدر عالمِ دین الشیخ عکرمہ صبری کو قابض صیہونی دشمن کی جانب سے طویل عرصے سے شدید ترین انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ ان پر بار بار سفری پابندیاں عائد کی گئی ہیں، متعدد مرتبہ قبلہ اول سے بے دخلی کے ظالمانہ احکامات جاری کیے گئے ہیں اور ان کی مذہبی، سماجی اور قومی قیادت کو مقبوضہ بیت المقدس کے اندر کمزور کرنے کی مکارانہ صیہونی پالیسی کے تحت انہیں بارہا تفتیش کے لیے نام نہاد عقوبت خانوں کے مراکز میں طلب کیا جاتا رہا ہے۔
