غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) حقوقِ انسانی کے دفاع کے لیے سرگرم مرکز “عدالہ” نے پیر کی شام غاصب صہیونی حکام کی جانب سے اغوا کیے گئے گلوبل صمود فلوٹیلا کے پرامن مہم جوؤں اور امدادی کارکنوں تک قانونی ٹیموں کی فوری رسائی کو ممکن بنانے اور ان کی خفیہ نظر بندی کے مقامات اور ابتر حالات کو فوری طور پر بے نقاب کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ پیر کی صبح قابض اسرائیل کی وحشی بحریہ نے بحیرہ روم کے بین الاقوامی پانیوں میں مظلوم فلسطینیوں کی داد رسی کے لیے بڑھنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے بحری جہازوں پر دھاوا بول کر ان پر زبردستی قبضہ کرنا اور ان پر سوار انسانی حقوق کے پرامن کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا تھا۔
حقوقی مرکز عدالہ نے اپنے ایک اہم بیان میں، جس کی ایک کاپی نیوز ایجنسی “اناڈولو” کو بھی موصول ہوئی ہے، کہا کہ غاصب صہیونی افواج نے پیر کی دوپہر گلوبل صمود فلوٹیلا کے بحری جہازوں کا راستہ روک کر ان پر بزدلانہ حملہ کیا، جو کہ گذشتہ جمعرات کو بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ترکیہ کے شہر مرمریس سے روانہ ہوئے تھے۔
بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ یہ فلوٹیلا 54 بحری جہازوں پر مشتمل تھا جس میں دنیا کے متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے جانثار متطوعین اور یکجہتی کے علمبردار شریک تھے، اور وہ ایک خالصتاً انسانی مشن کے تحت غزہ کی پٹی کی طرف بڑھ رہے تھے تاکہ سنہ 2007ء سے اس محصور پٹی پر مسلط قابض اسرائیل کے غیر قانونی اور ظالمانہ محاصرے کو پاش پاش کیا جا سکے۔
مرکز نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اس فلوٹیلا کا بنیادی مقصد نہتے فلسطینیوں کے خلاف غاصب دشمن کی طرف سے مروجہ اجتماعی بھوک اور نسل کشی کی وحشیانہ پالیسیوں کے سائے میں مظلوم شہریوں کی بقا کے لیے ایک محفوظ انسانی راہداری کھولنا ہے۔
عدالہ نے اس بات پر زور دیا کہ ان پرامن بحری جہازوں پر حملہ غاصب صہیونی حکام اور ان کے پالتو میڈیا کے ان گستاخانہ بیانات کے چند دنوں بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے فلوٹیلا کے جہازوں پر بحری قزاقی کرنے اور ان کے شرکاء کو یرغمال بنانے کا کھلم کھلا اعلان کیا تھا، جس میں انہیں ایک ایسے بدنام زمانہ مقام پر منتقل کرنے کی دھمکی بھی شامل تھی جسے اسرائیلی میڈیا نے “تیرتا ہوا جیل” قرار دیا تھا اور وہاں سے انہیں اشدود کی بندرگاہ لے جایا جانا تھا۔
مرکز عدالہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اب تک موصول ہونے والی تشویشناک اطلاعات کے مطابق غاصب صہیونی فورسز نے متعدد بحری جہازوں پر وحشیانہ کنٹرول حاصل کر کے ان پر سوار مہم جوؤں کو زبردستی ہانک دیا ہے، جبکہ اس وقت تک ان اسیران کو رکھنے کے خفیہ مقامات اور ان کی صحت کی صورتحال کے بارے میں معلومات کو انتہائی محدود اور مخفی رکھا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جیسے ہی ان جہازوں پر حملے کی خبر ملی، مرکز عدالہ کی خاتون وکلاء کی ٹیم اور ان کے ساتھ رضا کار وکلاء اور قانون دانوں کے دستے فوری طور پر اشدود کی بندرگاہ کی طرف روانہ ہو گئے تاکہ فلوٹیلا کے ان یرغمال مہم جوؤں کی قانونی نمائندگی کا فریضہ سنبھال سکیں۔
اس حقوقی مرکز نے قابض حکام سے سخت مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہماری قانونی ٹیموں کو تمام نظر بند اسیران تک فوری اور بلا رکاوٹ رسائی فراہم کریں اور ان کی حراست کی اصل جگہوں اور انسانیت سوز حالات کو دنیا کے سامنے لائیں۔
عدالہ نے اس ہولناک واقعے پر گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی پانیوں میں سویلین بحری جہازوں پر شب خون مارنا، ان پر سوار انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو اغوا کرنا اور غزہ کی پٹی کے سسکتے ہوئے بچوں تک امداد پہنچانے سے روکنا بین الاقوامی قانون کی بدترین اور سنگین ترین خلاف ورزی ہے، جو کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے خلاف قابض اسرائیل کی جاری نسل کشی، غیر قانونی محاصرے اور اجتماعی طور پر بھوکا مارنے کی مسموم کڑی ہے۔
مرکز نے پختہ عزم کا اظہار کیا کہ اس کی قانونی ٹیم ان یرغمال بنائے گئے تمام کارکنوں کی حالتِ زار پر گہری نظر رکھے گی اور قابض صہیونی عقوبت خانے کی طرز پر کی جانے والی اس غیر قانونی حراست کو عدالتوں میں چیلنج کرے گی۔
اس سے قبل پیر کے روز ہی عبرانی ویب سائٹ “والا” نے اعتراف کیا تھا کہ غاصب صہیونی افواج نے اسرائیلی ساحلوں سے تقریباً 100 میل دور بین الاقوامی پانیوں میں کارروائی کرتے ہوئے اب تک گلوبل صمود فلوٹیلا کے لگ بھگ 100 پرامن کارکنوں کو اغوا کر لیا ہے۔
گذشتہ اتوار کی شام عبرانی اخبار “یدعوت احرونوت” نے ایک نامعلوم صہیونی سکیورٹی کارندے کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ قابض اسرائیل کی بحریہ اس فلوٹیلا پر شب خون مارنے اور اس کے نہتے مہم جوؤں کو ایک “تیرتے ہوئے جیل” میں منتقل کرنے کی مکمل تیاری کر چکی ہے۔
