غزب اردان – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غاصب صہیونی دشمن کی اندھی گولیوں اور سفاکیت کا ایک اور نشانہ بن کر گذشتہ روز اتوار کو الخلیل کے شمال مغرب میں واقع قصبہ بیت اولا میں نسل پرستانہ توسیعی دیوار کے ارد گرد قابض اسرائیلی افواج کی وحشیانہ فائرنگ کی زد میں آ کر شدید زخمی ہونے والا 32 سالہ نوجوان محمود زیاد العملہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گیا۔ مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی اور خون بہانے کا یہ سلسلہ غاصب دشمن کی سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ ہے۔
اس وحشیانہ کارروائی کے ساتھ ہی قابض اسرائیلی افواج نے نابلوس شہر سے ایک اور فلسطینی کو اغوا کر کے قابض صہیونی عقوبت خانے منتقل کر دیا۔ فلسطینی سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں نے الطور فوجی چوکی کی طرف سے شہر پر دھاوا بولا اور شارع فطائر کی سمت بڑھتے ہوئے وہاں ایک رہائشی مکان پر چھاپہ مارا اور وہاں سے شہری فارس ابو غنیم کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی افواج نے بیت لحم کے جنوب مشرق میں واقع قصبہ تقوع پر بھی شدید دھاوا بولا۔
تقوع کے بلدیہ چیئرمین صقر سلیمان نے بتایا کہ قابض اسرائیل کی مسلح فورسز نے قصبے میں گھس کر “الحلقوم” کے علاقے میں پوزیشنیں سنبھال لیں تاہم فوری طور پر کسی گھر پر چھاپے مارنے یا کسی کی گرفتاری کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
اسی دوران غاصب صہیونی حکام نے تقوع ہی میں فلسطینیوں کے 15 گھروں کو مسمار کرنے اور وہاں تعمیراتی کام روکنے کے جابرانہ احکامات اور نوٹسز بھی جاری کر دیے ہیں تاکہ فلسطینیوں کو ان کی اپنی ہی زمین سے بیدخل کیا جا سکے۔
غزہ کی پٹی پر سات اکتوبر سنہ 2023ء شروع ہونے والی باقاعدہ نسل کشی کی وحشیانہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ہی مغربی کنارے کے تمام شہروں اور قصبوں میں قابض اسرائیل کی جانب سے مسلسل دھاوے بولنے، گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنے اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کرنے کا سلسلہ انتہائی شدت سے جاری ہے۔
سرکاری فلسطینی اعداد و شمار اور معطیات کے مطابق اس ہولناک دست درازی کے آغاز سے لے کر اب تک مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی فوج اور وحشی یہودی آباد کاروں کے بہیمانہ حملوں کے نتیجے میں 1162 سے زائد فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور تقریباً 12 ہزار 245 فلسطینی شدید زخمی ہوئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ 23 ہزار کے قریب معصوم شہریوں کو اغوا کر کے قابض صہیونی عقوبت خانے منتقل کیا جا چکا ہے۔
