Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں اسپتالوں کو شدید مشکلات، سی ٹی اسکین مشینوں کی قلت

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ غاصب اسرائیل کی مسلط کردہ سفاکانہ جنگ کے دوران صحت کے نظام کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے اور تباہ کرنے کے بعد، فعال باقی رہ جانے والے ہسپتالوں میں طبی تصویر کشی (میڈیکل امیجنگ) کی خدمات کو انتہائی کٹھن چیلنجوں کا سامنا ہے۔

ذرائع نے اشارہ کیا کہ غزہ کی پٹی طبی ’ایم آر آئی‘ کے 76 فیصد آلات سے محروم ہو چکی ہے، جبکہ باقی ماندہ آلات، جو کہ صرف 24 فیصد بنتے ہیں، انتہائی کٹھن تکنیکی حالات میں کام کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں ہے جب ان خدمات کی ضرورت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور آلات کی باقاعدہ دیکھ بھال اور اسپیئر پارٹس کی فراہمی میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ غزہ کی پٹی میں 9 آلات مکمل طور پر تباہ ہونے کے بعد ایم آر آئی کی سروس اب پوری طرح ناپید ہو چکی ہے، جس نے مظلوم مریضوں اور زخمیوں کے مرض کی تشخیص اور ان کے علاج معالجے کے اقدامات کو مزید پیچیدہ اور مشکل بنا دیا ہے۔

ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ مجموعی طور پر 18 سی ٹی اسکین آلات میں سے اب صرف 5 آلات ہی شدید دباؤ کے تحت کام کر رہے ہیں، جو تشخیصی تصویر کشی کی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بالکل نا کافی ہیں۔

ذرائع نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ غاصب صہیونی دشمن کی جنگ سے پہلے غزہ کی پٹی میں 88 عام ایکسرے آلات موجود تھے، جن میں سے اب صرف 33 فعال رہ گئے ہیں۔ یہ آلات بھی انتہائی خستہ حال ہیں، بار بار خراب ہو جاتے ہیں اور انہیں مسلسل مرمت اور اسپیئر پارٹس کی ضرورت رہتی ہے۔

ذرائع نے متنبہ کیا کہ ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز کو فلوروسکوپی آلات کی شدید ترین ضرورت ہے، کیونکہ جنگ سے پہلے موجود 16 آلات میں سے اب صرف 5 آلات ہی دستیاب ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طبی تصویر کشی کی خدمات کا یہ سنگین بحران مریضوں اور زخمیوں کی تشخیصی اور علاج کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan