استنبول – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ ظالمانہ اسرائیلی حصار کو توڑنے کی ایک نئی اور جرات مندانہ کوشش کے طور پر گلوبل صمود فلوٹیلا جمعرات و ترکیہ کے بحیرہ روم کے ساحلی شہر مرمریس سے روانہ ہونے کے لیے تیار ہے۔ اس انسانی مشن میں 54 بحری جہاز اور 500 سے زائد بین الاقوامی سماجی کارکن اور یکجہتی کے علمبردار شریک ہیں۔
اس بات کا اعلان فلوٹیلا کی انتظامیہ کے اراکین نے جنوب مغربی ترکیہ کے صوبہ موغلا کے شہر مرمریس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ پریس کانفرنس میں سمیرہ آق دنيز اوردو، ایمان المخلوفی، سیف ابو کشک، کو تينموانغ اور نتالیا ماریا سمیت دیگر قائدین نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قابض اسرائیل کی مسلسل دھمکیوں کے باوجود غزہ کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے بین الاقوامی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
فلوٹیلا کے رکن اور فلسطینی نژاد ہسپانوی سماجی کارکن سیف ابو کشک نے کہا کہ قابض اسرائیل نہ تو انسانی حقوق کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قانون کو مانتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سماجی کارکنوں نے گذشتہ برسوں کے دوران فلسطین میں ہونے والے تمام تر ہولناک واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ محاصرہ توڑنے کے اس سفر کو ہر صورت آگے بڑھائیں گے۔
ابو کشک نے مزید بتایا کہ مرمریس سے غزہ کی جانب 54 جہاز روانہ ہوں گے جن میں فریڈم فلوٹیلا اتحاد کے پانچ بڑے جہاز بھی شامل ہیں۔ اس مشن میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 500 سے زائد افراد شریک ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قابض اسرائیل دانستہ طور پر بھوک کو ہتھیار بنا کر غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ مغربی کنارے میں بھی نوآبادیاتی مہم چلا رہا ہے جس کا مقصد فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنا ہے۔
یاد رہے کہ قابض اسرائیل کی فوج نے گذشتہ 29 اپریل کو یونانی جزیرے کریز کے قریب عالمی سمندری حدود میں گلوبل صمود فلوٹیلا کے جہازوں پر حملہ کیا تھا جس میں 39 ممالک سے تعلق رکھنے والے 345 شرکاء شامل تھے۔ اس وقت قابض اسرائیل نے 21 کشتیاں اور ان پر سوار 175 سماجی کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا جبکہ باقی کشتیاں یونانی علاقائی حدود کی جانب اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہی تھیں۔
یہ اقدام سنہ 2007 سے غزہ کی پٹی پر مسلط اس اسرائیلی حصار کو توڑنے کی عالمی کوششوں کا حصہ ہے جس نے وہاں انسانی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اکتوبر سنہ 2023 میں شروع ہونے والی نسل کشی کی جنگ، بڑے پیمانے پر تباہی اور غزہ کے اندر 15 لاکھ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے بعد اس انسانی بحران میں ناقابل بیان حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
