Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ کے قیدیوں کے نئے قانون پر تنقید، انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے غیر انسانی اقدام قرار دیا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی “کنیست” کی جانب سے سات اکتوبر کے قیدیوں کے حوالے سے خصوصی قانون کی منظوری استعماری قانون سازی کے اس سلسلے کی ایک نئی اور خطرناک کڑی ہے جو فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کے جرم کو مزید تقویت دیتی ہے۔

مذکورہ قانون غزہ کے ان قیدیوں کے لیے ایک خصوصی عدالت کے قیام کا تقاضا کرتا ہے جن کے بارے میں قابض حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے سات اکتوبر سنہ 2023ء کے واقعات میں حصہ لیا تھا، جس میں ان کے لیے سزائے موت کی سزا بھی شامل ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں نے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ قانون بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

تنظیموں کے بیان کے مطابق یہ نیا قانون متعدد بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حقوق کی پامالی کرتا ہے، جن میں سب سے اہم جینے کا حق، منصفانہ ٹرائل کا حق اور درست قانونی چارہ جوئی کی ضمانتیں شامل ہیں۔

بیان میں اس جانب بھی توجہ دلائی گئی کہ یہ قانون “ٹارچر (تشدد) اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا ذلیل آمیز سلوک اور سزا کی مطلق ممانعت” کی بھی خلاف ورزی ہے، جس کا سامنا فلسطینی اسیران کو قابض صہیونی عقوبت خانوں میں کرنا پڑ رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس قانون میں شامل دفعات اس نسل پرستانہ قانون سازی کے راستے سے الگ نہیں ہیں جس کے تحت “کنیست” نے اس سے قبل فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کا قانون منظور کیا تھا۔

تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ نئی دفعات اس منظم قانون سازی کے تسلسل کے طور پر آئی ہیں جس کا مقصد فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے بین الاقوامی جرائم کو داخلی طور پر قانونی غلاف فراہم کرنا ہے۔

اسیران کی تنظیموں کے مطابق یہ رجحان اسرائیلی دہشت گردی کے نظام میں “کنیست” کے کردار کو ایک مرکزی آلے کے طور پر مستحکم کرتا ہے، جس نے براہِ راست نسل کشی کو تقویت دینے، ہمہ گیر جارحیت کو جاری رکھنے اور فلسطینی وجود اور ان کے قومی و انسانی حقوق کو نشانہ بنانے میں حصہ لیا ہے۔

اسرائیلی کنیست کی جنرل اسمبلی نے گذشتہ پیر کی شام دوسری اور تیسری ریڈنگ کے دوران 93 اراکین کی بھاری اکثریت سے “سات اکتوبر کے حملہ آوروں” کے خلاف مقدمہ چلانے کے خصوصی بل کی منظوری دی، جس کا ہدف ان فلسطینی قیدیوں پر مقدمہ چلانا ہے جن کے بارے میں قابض اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کے واقعات میں ملوث تھے۔

یہ قانون قابض حکام کو ان افراد پر مقدمہ چلانے کی اجازت دے گا جنہیں وہ “انتہائی سنگین جرائم کے مرتکب” قرار دیتے ہیں، جن کی سزا موت تک ہو سکتی ہے، اور کسی بھی تبادلے کے معاہدے میں ان کی رہائی پر پابندی ہوگی۔

واضح رہے کہ اسرائیلی کنیست نے 30 مارچ سنہ 2026ء کو حتمی طور پر “فلسطینی اسیران کی سزائے موت کا قانون” 48 کے مقابلے میں 62 ووٹوں کی اکثریت سے منظور کیا تھا۔ یہ قانون ان فلسطینی اسیران کے لیے پھانسی کی سزا تجویز کرتا ہے جنہیں “قتل کے آپریشنز” میں قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan