تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سکیورٹی کمیٹی نے دھمکی دی ہے کہ اگر تہران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو یورینیم کی افزودگی کی سطح بڑھا کر 90 فیصد کر دی جائے گی۔ یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی آپشنز کی واپسی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
ایرانی مجلس شوریٰ کی قومی سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ تہران پر کسی بھی نئے حملے کی صورت میں ایران یورینیم کی افزودگی کو 90 فیصد تک لے جا سکتا ہے۔
انہوں نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں واضح کیا کہ اگر ایران کو دوبارہ جارحیت کا نشانہ بنایا گیا تو زیر غور آپشنز میں سے ایک اہم ترین آپشن افزودگی کی سطح میں اضافہ کرنا ہے۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ ایسی صورتحال میں افزودگی کا تناسب 90 فیصد تک پہنچ سکتا ہے اور اس معاملے پر ایرانی پارلیمنٹ کے اندر تفصیلی بحث کی جائے گی۔
اسی تناظر میں مجلس شوریٰ کے سپیکر اور ایران کے سینئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے منگل کے روز امریکہ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن جنگ ختم کرنے کے لیے تہران کی جانب سے پیش کردہ 14 نکاتی تجویز میں شامل شرائط کو تسلیم کرے، بصورت دیگر اسے بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
قالیباف کا یہ پیغام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حالیہ جواب کو مسترد کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ 8 اپریل سنہ 2026ء سے جاری کمزور جنگ بندی اب آخری سانسیں لے رہی ہے۔
تاہم قالیباف نے اس بات پر زور دیا کہ اگر امریکہ دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری اس جنگ کو ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے تہران کے حقوق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ گذشتہ ماہ مذاکرات کے پہلے دور میں کسی بڑی پیش رفت کے نہ ہونے کے بعد اب بات چیت جمود کا شکار ہے۔
قالیباف نے مزید کہا کہ ہمارے 14 نکاتی مینوفیسٹو میں درج ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کرنے کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی دوسرا طریقہ کار مکمل طور پر بے سود ثابت ہوگا اور اس کے نتیجے میں صرف ایک کے بعد دوسری ناکامی ہی مقدر بنے گی۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ امریکی حکام جتنی دیر تک ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کریں گے، امریکی ٹیکس دہندگان کو اتنی ہی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔
ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری اس جنگ میں پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ عسکری حکام نے کسی بھی نئی امریکی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے اپنی مکمل تیاری کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب تہران نے عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محدود کر دیا ہے جس نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے اور تہران کو ایک اہم پریشر کارڈ فراہم کر دیا ہے، جبکہ جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ کر رکھا ہے۔
حالیہ امریکی تجویز کی تفصیلات ابھی محدود ہیں، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق اس میں ایک صفحے کی مفاہمت کی یادداشت شامل ہے جس کا مقصد لڑائی کا خاتمہ اور ایران کے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کے جواب میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری محاصرے کے خاتمے اور برسوں سے عائد پابندیوں کے نتیجے میں بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی کی ضمانت طلب کی گئی ہے۔ وزارت نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کے بدلے میں ایران کیا پیشکش کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ تہران کے پاس اس وقت 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ ایٹمی ہتھیار کی تیاری کے لیے افزودگی کی سطح کا تقریباً 90 فیصد ہونا ضروری ہے۔
اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کا یہ ذخیرہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں اختلاف کا بنیادی نکتہ بنا ہوا ہے، کیونکہ امریکہ اس مواد کو ملک سے باہر منتقل کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔
ایران اب تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ملک سے باہر بھیجنے سے انکار کرتا آیا ہے اور ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کو اپنا حق قرار دیتا ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ افزودگی کی سطح کے معاملے پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔
