بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنانی حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے قابض اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے آپشن کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ لبنان سے باہر کسی بھی طاقت کا ہتھیاروں، مزاحمت اور لبنانی ریاست کی داخلی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے بیروت حکومت پر زور دیا کہ وہ قابض دشمن کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے عمل سے فوری طور پر الگ ہو جائے۔
یہ موقف نعیم قاسم نے منگل کے روز حزب اللہ کے مجاہدین کے نام بھیجے گئے ایک خصوصی پیغام میں اختیار کیا جو جماعت کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ بیان کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
نعیم قاسم نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہم ایک ایسے مجرم اور سفاک صہیونی دشمن کا سامنا کر رہے ہیں جسے خون خوار امریکی جبر کی پشت پناہی حاصل ہے، جبکہ کئی ممالک اپنے اقتدار کی ہوس میں اندھے ہو چکے ہیں اور شکست خوردہ عناصر غاصبوں کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کے پاس افرادی قوت، جدید اسلحہ اور درندگی کی بہتات ہے جس کے مقابلے میں ایک ایسا گروہ سینہ سپر ہے جو تعداد اور وسائل میں کم ہو سکتا ہے لیکن فتح بہرحال ہماری ہی ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم ایک ایسی اسرائیلی و امریکی جارحیت کے خلاف برسرپیکار ہیں جو ہمارے ملک لبنان کو جھکانے اور اسے گریٹر اسرائیل کا حصہ بنانے کے مذموم خواب دیکھ رہی ہے۔ ہم کسی صورت نہ جھکیں گے اور نہ ہی ہتھیار ڈالیں گے۔ ہم لبنان اور اس کے عوام کا دفاع جاری رکھیں گے خواہ کتنا ہی وقت کیوں نہ گزر جائے اور کتنی ہی بڑی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں، کیونکہ یہ قربانیاں غلامی اور شکست کی قیمت سے کہیں کم ہیں۔ قابض دشمن کو آج نہیں تو کل ہر صورت گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے۔
نعیم قاسم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم میدان جنگ کو کسی صورت خالی نہیں چھوڑیں گے بلکہ اسے قابض اسرائیل کے لیے جہنم بنا دیں گے۔ ہم ہر جارحیت اور خلاف ورزی کا بھرپور جواب دیں گے اور حالات کو 2 مارچ سنہ 2026ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس نہیں جانے دیں گے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والا وہ معاہدہ جس میں لبنان پر جارحیت روکنے کی ضمانت شامل ہو، اس وقت جنگ بندی کا سب سے مضبوط پتہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ لبنان کے خود مختار اہداف کے حصول کے لیے مذاکرات کی ذمہ داری لبنانی اتھارٹی کی ہے اور ہم پانچ نکات پر مبنی اہداف کے حصول کے لیے تعاون کے لیے تیار ہیں: لبنان کی بری، بحری اور فضائی حدود میں قابض اسرائیل کی جارحیت کا خاتمہ، مقبوضہ علاقوں سے قابض اسرائیلی فوج کا انخلا اور دریائے لیطانی کے جنوب میں لبنانی فوج کی تعیناتی، قابض صہیونی عقوبت خانوں سے اسیران کی رہائی، تمام بے گھر افراد کی اپنے دیہاتوں اور بستیوں میں واپسی، اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی دوبارہ تعمیر و ترقی۔
نعیم قاسم نے مطالبہ کیا کہ غیر براہ راست مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے جہاں لبنانی مذاکرات کار کے پاس طاقت کے پتے موجود ہوں، اور ان براہ راست مذاکرات سے دستبرداری اختیار کی جائے جو سراسر قابض اسرائیل کے مفاد میں ہیں اور جن کے ذریعے لبنانی اتھارٹی کی جانب سے دشمن کو مفت مراعات دی جا رہی ہیں۔
اپنے پیغام میں انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ لبنان کی سرحدوں سے باہر کسی بھی فریق کا ہماری مزاحمت، ہتھیاروں اور ریاست کے داخلی نظم و نسق سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ خالصتاً لبنان کا داخلی معاملہ ہے اور دشمن کے ساتھ مذاکرات کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ جب لبنان اپنے پانچوں اہداف حاصل کر لے گا تو وہ قومی سلامتی کی حکمت عملی کے تحت اپنے داخلی معاملات کو ترتیب دے گا جس میں مزاحمت سمیت اپنی قوت کے تمام عناصر سے فائدہ اٹھایا جائے گا، جیسا کہ صدر جمہوریہ جنرل جوزف عون نے اپنے حلف برداری کے خطاب میں کہا تھا کہ میری عہد بستگی ہے کہ میں ایک جامع دفاعی پالیسی پر بحث کی دعوت دوں گا جو سفارتی، معاشی اور فوجی سطح پر قومی سلامتی کی حکمت عملی کا حصہ ہو گی تاکہ لبنانی ریاست تمام لبنانی علاقوں سے اسرائیلی قبضہ ختم کرنے اور دشمن کی جارحیت کو روکنے کے قابل ہو سکے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ ہماری تمام تر مزاحمت کا مقصد جارحیت کو روکنا اور دشمن کے اہداف کو ناکام بنانا ہے۔ ہم اس کا مقابلہ اس لیے کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی طاقت کو ہمارے حق پر غالب کرنے کی کوششوں سے مایوس ہو جائے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ منزل کب آئے گی لیکن ہم اس وقت تک میدان کارزار نہیں چھوڑیں گے جب تک اللہ تعالی ہمیں کامیابی سے ہمکنار نہ فرما دے، اور ہم دعا گو ہیں کہ وہ وقت قریب ہو۔
