غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بمباری، فائرنگ اور مسلسل محاصرے کے نتیجے میں مزید دو فلسطینی جامِ شہادت نوش کر گئے اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ گذشتہ حملوں کے نشانہ بننے والے علاقوں سے دو مزید شہداء کے جسدِ خاکی نکال لیے گئے ہیں۔
شہرِ غزہ کے جنوب مشرق میں واقع محلہ الزیتون میں قابض اسرائیلی افواج کی گولیوں کا نشانہ بن کر ایک فلسطینی شہید ہو گیا، جبکہ دوسرا فلسطینی جنوبی غزہ کے شہر خانیونس کے مشرق میں بنی سہیلہ چوک کے قریب شہید ہوا۔
نامہ نگاروں نے اطلاع دی ہے کہ محلہ الزیتون کے مشرقی حصے میں واقع شارع فتوح پر قابض اسرائیل کے کواڈ کاپٹر ڈرون نے فلسطینیوں کے ایک گروہ پر بم گرایا جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہو گئے۔
اسی تناظر میں پیر کے روز شہرِ غزہ کے جنوب میں واقع نتساریم کے علاقے سے دو شہداء کے جسدِ خاکی نکالے گئے جنہیں گذشتہ روز اتوار کو اسرائیلی بمباری میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
غزہ کی پٹی کے شمال میں بیت لاہیہ کے علاقے تل الذہب پر توپ خانے کی گولہ باری کے نتیجے میں ایک ماں اور اس کے بچے سمیت 6 فلسطینی زخمی ہو گئے، جبکہ اسی قصبے میں قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے ایک اور بچہ زخمی ہوا۔
علاوہ ازیں شہرِ غزہ کے السامر چوک کے قریب قابض اسرائیلی افواج کی گولی لگنے سے ایک نوجوان زخمی ہو گیا۔
میدانی صورتحال کے مطابق قابض اسرائیل کے ٹینکوں نے غزہ کی پٹی کے مشرقی علاقوں پر شدید فائرنگ کی، جبکہ اسی دوران خانیونس کے مشرقی علاقوں میں بھی صہیونی فوجی گاڑیوں سے اندھا دھند فائرنگ اور توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔
سمندر میں بھی قابض اسرائیلی افواج نے اپنی سفاکیت جاری رکھتے ہوئے شہرِ غزہ کے ساحل کے قریب مچھلیاں پکڑنے میں مصروف تین سگے بھائیوں کو گرفتار کر لیا۔
قابض اسرائیلی افواج فضائی و زمینی بمباری، پناہ گزینوں کے علاقوں کو نشانہ بنا کر اور نام نہاد یلو لائن (خطِ اصفر) کے اندر مسماری و تباہی کے ذریعے مسلسل سیز فائر معاہدے کی دھجیاں اڑا رہی ہیں، جبکہ سامانِ تجارت، امداد اور نقل و حمل پر بھی سخت پابندیاں برقرار ہیں۔
اس حوالے سے غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ محاصرے اور گزرگاہوں کی تقریباً مکمل بندش کے باعث غزہ کی پٹی ایک ہمہ گیر انسانی المیے کا شکار ہے۔ بیان میں اشارہ کیا گیا کہ قابض اسرائیل 2.4 ملین سے زائد فلسطینیوں کو خوراک، دوا اور ایندھن سے محروم رکھ کر انسانی بحران کو مزید سنگین بنانے کی منظم پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس سے تمام حیاتیاتی شعبے شدید زوال کا شکار ہیں۔
وزارتِ صحت غزہ کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء سے جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 854 ہو گئی ہے جبکہ 2453 افراد زخمی ہوئے اور 770 شہداء کے اجسادِ خاکی ملبے سے نکالے گئے۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کے نتیجے میں شہداء کی مجموعی تعداد 72,740 تک پہنچ گئی ہے اور زخمیوں کی تعداد 172,555 ہو چکی ہے، جبکہ جنگ اور انسانی تباہی کا یہ خونی سلسلہ تاحال تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔
