لندن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں معالجین اور طبی عملے کو قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے منظم طریقے سے نشانہ بنائے جانے کے موضوع پر مبنی ایک دستاویزی فلم نے سنہ 2026ء کے برطانوی اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن آرٹس (بافتا) ایوارڈز میں بہترین کرنٹ افیئرز پروگرام کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
برطانوی اکیڈمی نے اتوار کی شام لندن میں منعقدہ ایوارڈز کی تقریب کے دوران سنہ 2025ء کے دوران پیش کیے گئے نمایاں ٹیلی ویژن پروگراموں، ڈراموں اور دستاویزی فلموں کی فہرست میں فلم غزہ: اطباء تحت الہجوم (غزہ: زیرِ عتاب ڈاکٹرز) کی کامیابی کا اعلان کیا۔
یہ دستاویزی فلم اصل میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے لیے تیار کی گئی تھی لیکن ادارے نے جون سنہ 2025ء میں جانبداری کا بہانہ بنا کر اس کی نشریات منسوخ کر دی تھیں، جس کے بعد برطانوی چینل فور نے اسے نشر کرنے کی ذمہ داری سنبھالی۔
پروڈکشن کمپنی بیسمنٹ فلمز نے اپنے ایک سابقہ بیان میں واضح کیا تھا کہ اس فلم کی نشریات کے لیے کم از کم چھ بار تاریخیں طے کی گئیں اور اس کی مکمل چھان بین بھی کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود بی بی سی اسے نشر کرنے سے پیچھے ہٹ گیا۔
اسی بیان کے مطابق پروڈکشن کمپنی کے بانی بن ڈی پیر نے بی بی سی پر صحافتی کام میں رکاوٹیں ڈالنے اور سچی آوازوں کو دبانے کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا۔
بافتا کی تقریب میں بہترین کرنٹ افیئرز پروگرام کا ایوارڈ وصول کرتے ہوئے دستاویزی فلم کی میزبان رامیتا نافائی نے کہا کہ بی بی سی نے اس فلم کی تیاری کے اخراجات تو ادا کیے لیکن اسے دکھانے سے انکار کر دیا، مگر ہم نے خاموشی اختیار کرنے اور سنسر شپ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسر بن ڈی پیر نے بی بی سی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ چونکہ آپ نے اس فلم کو گرا دیا تھا تو کیا اب آپ ہمیں بافتا ایوارڈز سے بھی گرا دیں گے؟
یہ دستاویزی فلم آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر جاری جنگ کے دوران قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے طبی مراکز اور طبی عملے کو منظم طریقے سے نشانہ بنائے جانے کی ہولناک تصویر پیش کرتی ہے۔
فلم میں ایسے شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات شامل کیے گئے ہیں جو طبی شعبے سے وابستہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ، ان کی گرفتاریوں اور قابض صہیونی عقوبت خانوں میں ان پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کی گواہی دیتے ہیں، جو جنگوں کے دوران طبی عملے کو حاصل بین الاقوامی قانونی تحفظ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز سے ہی غزہ میں طبی عملے کو براہ راست قتل، زخمی کرنے اور گرفتاریوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل اسماعیل الثوابتہ نے قبل ازیں اپنے بیان میں بتایا تھا کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک شہید ہونے والے طبی عملے کے ارکان کی تعداد تقریباً 1581 ہو چکی ہے۔
اسماعیل الثوابتہ نے مزید انکشاف کیا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک طبی عملے کے 362 ارکان قابض اسرائیل کی قید میں ہیں جن میں 88 ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔
