Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

رام اللہ

غزہ کے اسیران پر بڑھتے مظالم، تازہ رپورٹ نے سنگین صورتحال بے نقاب کر دی

رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) کمیشن برائے امور اسیران و آزاد شدگان اور کلب برائے اسیران نے قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں میں محبوس غزہ کی پٹی کے متعدد اسیران کے ایسے لرزہ خیز بیانات بے نقاب کیے ہیں جنہیں مروجہ انسانی زبان میں ہولناک قرار دیا جا رہا ہے۔ ان شہادتوں میں اسیران پر جاری وحشیانہ تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے دل دہلا دینے والے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔

یہ چونکا دینے والے انکشافات ان دوروں کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں جو حال ہی میں وکلاء نے رملہ اور نقب کے صہیونی عقوبت خانوں میں کیے، جہاں غزہ کے اسیران کو بالخصوص رکیفت نامی حصے اور رملہ ہسپتال کی کلینک میں رکھا گیا ہے۔

کمیشن اور کلب برائے اسیران نے پیر 11 مئی سنہ 2026ء کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ رکیفت نامی حصے سے موصول ہونے والی رودادیں اس بھیانک سطح کے تشدد اور تذلیل کی عکاسی کرتی ہیں جو اسرائیلی جیل انتظامیہ نے اسیران پر مسلط کر رکھی ہے۔

رکیفت کا یہ حصہ ان اسیران کے لیے مخصوص ہے جنہیں قابض اسرائیل نے نام نہاد غیر قانونی جنگجو قرار دے رکھا ہے، یعنی وہ لوگ جو کسی الزام کے بغیر انتظامی حراست میں ہیں، جبکہ ایک حصہ ان اسیران کے لیے ہے جن پر مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔

متاثرہ اسیران نے بتایا کہ انہیں روزانہ کی بنیاد پر بدترین تشدد اور مار پیٹ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ خاص طور پر زیر سماعت اسیران کو سزا دینے کے لیے ان کی انگلیاں توڑنے کی منظم اور سفاکانہ پالیسی اپنائی گئی ہے۔

اسیران کے مطابق جیلر جان بوجھ کر ہتھکڑیوں کو اس قدر سختی سے کستے ہیں کہ وہ تشدد کا آلہ بن جاتی ہیں، جس سے ہاتھ پاؤں میں خون منجمد ہو جاتا ہے اور شدید ترین تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسیران نے یہ بھی بتایا کہ جب انہیں فورا (ہوا خوری) کے لیے باہر نکالا جاتا ہے تو ان کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں اور انہیں سر اٹھانے یا آپس میں بات کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہوتی۔

انکشافات کے مطابق ہر کوٹھڑی میں چار اسیران کو ٹھونسا گیا ہے جن میں سے تین لوہے کے بینچوں پر سوتے ہیں جبکہ چوتھے اسیر کو زمین پر سونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

بیانات کے مطابق کوٹھڑیوں کے اندر بات کرنا ممنوع ہے اور سونے کے لیے دیے گئے گدے روزانہ صبح چار بجے چھین لیے جاتے ہیں جو رات گیارہ بجے واپس ملتے ہیں، اس دوران اسیران سارا دن لوہے کے ڈھانچوں پر بیٹھے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسیران کو وکیل یا کسی بھی ملاقات سے قبل گندی گالیاں دی جاتی ہیں اور مار پیٹ کی دھمکیاں دی جاتی ہیں تاکہ وہ اپنی طبی یا معاشی صورتحال کے بارے میں کسی کو بتا نہ سکیں۔

اسیران کو نماز کی ادائیگی سے بھی روک دیا گیا ہے اور صفائی ستھرائی کے بنیادی سامان تک ان کی رسائی نہیں ہے۔ علاج معالجے سے محرومی کا یہ عالم ہے کہ ٹوتھ پیسٹ تو دیا جاتا ہے مگر برش فراہم نہیں کیا جاتا، جبکہ چار اسیران کے لیے دو دن میں ٹشو پیپر کا صرف ایک رول دیا جاتا ہے۔

متعدد اسیران نے گرفتاری کے پہلے لمحے سے شروع ہونے والے تشدد کی لرزہ خیز تفصیلات بیان کیں۔

بہت سے اسیران نے بتایا کہ انہیں فوجی تفتیش کے دوران کئی کئی دن تک الٹا لٹکایا گیا اور بے تحاشہ مارا پیٹا گیا۔ ایک اسیر نے بتایا کہ شدید تشدد کے باعث وہ اپنے پیروں کی حس کھو چکا ہے۔

ایک اور اسیر نے اپنی روداد سناتے ہوئے بتایا کہ اعتراف جرم کروانے کے لیے اس کے جسم کے نازک حصوں پر ضربیں لگائی گئیں، تفتیش کے دوران آنکھوں پر پٹی باندھ کر تیز دھار آلے سے ڈرایا گیا اور بعد ازاں رکیفت منتقلی کے دوران اس کی انگلی توڑ دی گئی۔

نقب عقوبت خانے میں موجود اسیران نے تصدیق کی کہ حالیہ جنگ کے دوران انہیں طویل عرصے تک ہوا خوری اور نہانے سے محروم رکھا گیا اور مسلسل مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ آٹھ ماہ سے خوراک کی اس قدر قلت ہے کہ وہ کئی کئی گھنٹے بھوکے رہتے ہیں اور خوراک بچا کر رکھتے ہیں کیونکہ ملنے والا کھانا ایک بچے کے پیٹ بھرنے کے لیے بھی کافی نہیں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نقب جیل میں اسکیبیز (خارش) کا مرض وبائی صورت اختیار کر چکا ہے اور سینکڑوں اسیر کئی ماہ سے اس کا شکار ہیں مگر علاج کی سہولت میسر نہیں۔

اسیران کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر انہیں ذلیل کرنے کے لیے گنتی یا تلاشی کے وقت گھٹنوں کے بل بٹھایا جاتا ہے اور بیرکوں کے اندر اندھا دھند ربڑ کی گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ ایک اسیر نے بتایا کہ اس کے بائیں پاؤں میں ربڑ کی تین گولیاں ماری گئیں۔

رملہ ہسپتال کلینک میں موجود غزہ کے ایک اسیر نے بتایا کہ شدید تشدد کے نتیجے میں اس کا جگر متاثر ہوا جس کی وجہ سے اسے سرجری کروانی پڑی۔

رملہ ہسپتال کلینک میں اب بھی غزہ کے متعدد اسیر زیر علاج ہیں جن میں ایک فالج زدہ اسیر بھی شامل ہے۔

کمیشن اور کلب برائے اسیران نے زور دے کر کہا ہے کہ غزہ کے اسیران کی یہ رودادیں اس نسل کشی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جو قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر جاری ہے۔ غزہ کے 1283 اسیران کو بغیر کسی واضح الزام یا قانونی کارروائی کے غیر قانونی جنگجو قرار دے کر قید کیا گیا ہے۔

دونوں اداروں کا کہنا ہے کہ یہ بیانات منظم جرائم کی اس سطح کو بے نقاب کرتے ہیں جس میں بھوک، علاج سے محرومی اور روزانہ کی بنیاد پر ذلت و رسوائی شامل ہے۔

انہوں نے ان جرائم کو قید خانوں کے اندر جاری نسل کشی کی ہی ایک شکل قرار دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی جنگجو کی اصطلاح کے تحت ان اسیران کو غائب کرنا اور ان پر تشدد کرنا دراصل عالمی نگرانی سے بچنے کا ایک پردہ ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر اداروں نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینی نصب العین کے حامیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسیران کے خلاف جاری ان منظم جرائم کو رکوانے کے لیے فوری مداخلت کریں اور ان لاپتہ اسیران کا سراغ لگائیں جنہیں قابض اسرائیل نے جبری طور پر غائب کر رکھا ہے۔
کمیشن برائے اسیران، کلب برائے اسیران اور الضمیر فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق مئی سنہ 2026ء کے آغاز تک قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں میں فلسطینی اسیران کی کل تعداد 9400 سے تجاوز کر چکی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan