Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

گرفتاری کے ایک ماہ بعد قصی ریان دورانِ حراست شہید

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر سلفیت کے مغرب میں واقع قصبے قراوہ بنی حسان سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ نوجوان قصی ابراہیم علی ریان پیر کے روز ایک ماہ تک قابض دشمن کی قید میں رہنے کے بعد بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں شہید ہو گئے۔ قصی ریان کو ایک ماہ قبل ایک غاصب آباد کار نے فائرنگ کر کے زخمی کیا تھا جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

کلب برائے اسیران اور محکمہ امور اسیران نے بتایا کہ ایک بچی کے باپ قصی ریان کو قابض اسرائیلی افواج نے 15 اپریل سنہ 2026ء کو دیراستیا قصبے کے قریب واد عباس کے علاقے سے زخمی حالت میں گرفتار کیا تھا۔ انہیں ایک مسلح آباد کار نے گولیاں ماری تھیں، جس کے بعد وہ قابض اسرائیل کے بلینسن ہسپتال میں موت اور زندگی کی کشمکش میں رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔

اسیران کمیشن اور کلب برائے اسیران نے ایک مشترکہ بیان میں انکشاف کیا کہ گرفتاری کے وقت قابض اسرائیلی حکام نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ قصی ریان نے چاقو سے حملے کی کوشش کی، جس کے بعد ان کی حراست میں آٹھ دن کی توسیع کر دی گئی تھی۔

بیان کے مطابق اس وقت وکیل نے قصی ریان کی صحت کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ ان کی حالت انتہائی تشویشناک دکھائی دے رہی تھی۔ بار بار کے مطالبات کے بعد انہیں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش کیا گیا، جہاں یہ معلوم ہوا کہ وہ بے ہوش ہیں اور انہیں مصنوعی تنفس کے آلات پر رکھا گیا ہے۔

کمیشن اور کلب برائے اسیران نے زور دے کر کہا کہ قابض دشمن کی پراسیکیوشن کی جانب سے قصی ریان پر حملے کی نیت کے الزامات سراسر باطل اور بے بنیاد ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ قابض دشمن کی پراسیکیوشن اسی طرح کے دیگر معاملات میں بھی گرفتاری پر اصرار کرتی رہی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ریان کو جھوٹے دعووں کی بنیاد پر سرد مہری سے قتل کیا گیا ہے۔

دونوں اداروں نے مزید کہا کہ یہ سنگین جرم فلسطینی عوام کے خلاف قابض اسرائیل کے جاری جرائم اور سفاکیت کا تسلسل ہے۔ مغربی کنارے میں جاری نسل کشی کی مہم کے دوران فیلڈ ایگزیکیوشن (موقع پر قتل) کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جبکہ آباد کاروں کے حملوں کو قابض اسرائیلی فوج کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔

بیان میں اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا گیا کہ قابض دشمن کے عقوبت خانوں میں سینکڑوں زخمی اسیر موجود ہیں جن کی تعداد نسل کشی کے آغاز کے بعد سے تیزی سے بڑھی ہے۔ قابض اسرائیل انہیں انتہائی کٹھن اور الم ناک حالات میں قید رکھے ہوئے ہے جہاں انہیں دیگر اسیران کی طرح منظم مظالم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

کمیشن برائے امور اسیران اور کلب برائے اسیران نے قصی ریان کی شہادت کی تمام تر ذمہ داری قابض اسرائیلی حکام پر عائد کی ہے۔

انہوں نے عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف جاری اس نسل کشی، فیلڈ ایگزیکیوشن اور قتل و غارت گری پر اپنی مجرمانہ خاموشی اور بے حسی ختم کریں۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ قابض صہیونی عقوبت خانوں میں اسیران کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کی جائے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan