Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مسجد اقصیٰ میں رباط بڑھانے کی اپیل، آباد کاروں کی جارحیت پر تشویش

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے بیت المقدس اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں کے فلسطینی عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ جمعرات اور جمعہ یعنی 14 اور 15 مئی سنہ 2026ء کو مسجد اقصیٰ کی طرف رخ کریں اور وہاں مرابطین کی صورت ڈیرے ڈال لیں۔ یہ اپیل قابض اسرائیلی حکام اور انتہا پسند ہیکل تنظیموں کے اس “خطرناک جارحانہ” منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے کی گئی ہے جو نام نہاد “عبرانی یومِ احتلالِ القدس” اور آباد کاروں کے اشتعال انگیز “پرچم مارچ” کے موقع پر تیار کیا گیا ہے۔

فاؤنڈیشن القدس نے آج بروز پیر 11 مئی سنہ 2026ء کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ قابض اسرائیل اس موقع کو “مسجد اقصیٰ پر حملے کے سیزن” میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سازش کا مقصد قبلہ اول میں یہودی سازی کے نئے اور بے مثال حقائق مسلط کرنا ہے، جن میں جمعہ کے روز آباد کاروں کا دھاوا شامل ہے جو سنہ 1967ء میں القدس پر قبضے کے بعد سے اب تک کی ایک ایسی سنگین مثال ہوگی جو پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ جمعرات کے روز شام کے وقت بھی دھاوے کا ایک نیا دور مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اسے مستقل معمول بنایا جا سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قابض اسرائیل کا وزیرِ قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر اپنے ونگ کے ربیوں کے مذہبی فتاویٰ کا سہارا لے کر قبۃ الصخرہ یا المصلی القبلی پر اشتعال انگیز حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس کا مقصد مسجد اقصیٰ کے مسقف حصوں کے اندر اردن کے محکمہ اوقاف کے باقی ماندہ کردار کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔

فاؤنڈیشن نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ انتہا پسند “ہیکل” تنظیموں نے اس جارحیت کے لیے اپنی تیاریاں تیز کر دی ہیں اور مسجد اقصیٰ کے اندر جمعہ کے روز اسرائیلی پرچم لہرانے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قابض وزراء اور ارکانِ کنیسٹ بھی دباؤ ڈال رہے ہیں کہ اس دن دھاوے کی اجازت دی جائے اور جمعرات کے روز تلاشی اور دھاووں کے اوقات میں توسیع کی جائے۔

فاؤنڈیشن نے خبردار کیا کہ قابض پولیس کی اب تک کی خاموشی ایک گہری دھوکہ دہی اور جمعہ کے روز حملوں کی تیاری کا پتہ دیتی ہے، جیسا کہ اگست سنہ 2019ء میں عید الاضحیٰ کے موقع پر ہونے والے دھاووں کے دوران کیا گیا تھا۔

ایک براہ راست پکار میں فاؤنڈیشن نے القدس اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطین کے بیٹوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعرات اور جمعہ کو صبح سویرے سے لے کر نمازِ مغرب کے بعد تک مسجد اقصیٰ میں بڑی تعداد میں موجود رہیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ صرف نمازِ جمعہ کے لیے آنا کافی نہیں بلکہ وہاں اعتکاف، رباط، نماز، دعا اور تلاوتِ قرآن کے ذریعے مسجد کو آباد رکھنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جمعہ کی شام “پرچم مارچ” کے مقابلے میں قدیم شہر کے رہائشیوں کی استقامت کو سہارا دینے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔

بیان میں مغربی کنارے کے عوام سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی جانب رختِ سفر باندھیں اور وہاں تک جانے والے تمام راستوں اور فوجی رکاوٹوں پر نمازیں ادا کریں، اور مسجد کی اسلامی شناخت کے دفاع کے لیے عوامی تحاریک کو منظم کریں۔

فاؤنڈیشن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ القدس پر قبضے کی عبرانی یادگار کا فلسطینیوں کی “نکبہ” (یومِ سیاہ) کی 78 ویں سالگرہ کے ساتھ آنا اس بات کی علامت ہے کہ امریکی حمایت یافتہ صہیونی ریاست کی نسل کشی اور تصفیہ کی جنگ کے خلاف فلسطینیوں کی جدوجہد کے تمام راستے ایک ہیں۔ قابض اسرائیل ایک طرف حقِ واپسی کو ختم کرنے، “انروا” کو نشانہ بنانے اور القدس و مسجد اقصیٰ کو یہودیانے پر تلا ہوا ہے تو دوسری طرف غزہ کی پٹی پر مسلسل جنگ اور مغربی کنارے سمیت پورے خطے میں کشیدگی پھیلائے ہوئے ہے۔

القدس فاؤنڈیشن نے تمام عرب و اسلامی اقوام، علماء، مفکرین اور دانشوروں سے مطالبہ کیا کہ وہ جمعرات اور جمعہ کو ہنگامی عوامی تحاریک اور یکجہتی کے مظاہرے منظم کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ماضی کی طرح اس “طویل خاموشی” کو نہ دہرایا جائے جو مسجد اقصیٰ کی مسلسل چالیس روزہ بندش کے دوران دیکھی گئی تھی۔

اپنے بیان کے اختتام پر فاؤنڈیشن نے عرب ممالک کے حکمرانوں کو مسجد اقصیٰ کے خلاف ہونے والی اس خطرناک یہودی سازی پر ان کی بے حسی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نارملائزیشن کے شرمناک معاہدے اور عرب دارالحکومتوں میں قابض اسرائیل کے سفارت خانوں کی موجودگی صہیونی دشمن کو اپنی سفاکیت اور جارحیت جاری رکھنے کے لیے تحفظ اور شہ فراہم کرتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan