Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

بیت المقدس کے قلب میں کشیدگی، مسجد اقصیٰ کے گرد اسرائیلی محاصرہ سخت

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر کے در و دیوار آج پھر صہیونی غصب اور جبر کی ایک نئی داستان سنا رہے ہیں۔ قابض اسرائیل نے اپنی سفاکیت کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے القطانین مارکیٹ اور باب الحدید کے درمیانی راستے پر ایک نیا آہنی دروازہ نصب کر دیا ہے، جو قبلہ اول، مسجد اقصیٰ کی جانب جانے والی ایک مقدس اور تاریخی شاہراہ ہے۔ یہ اقدام محض ایک آہنی رکاوٹ نہیں بلکہ مقدسیوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور اس ارضِ مقدس کے جغرافیائی و آبادیاتی تشخص کو مٹانے کی ایک مذموم صہیونی سازش ہے۔

قابض اسرائیل کی بلدیاتی ٹیموں نے بھاری سکیورٹی کے سائے میں یہ حصار قائم کیا ہے، جسے اہل القدس ایک ایسی منظم پالیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد فلسطینیوں کی نسل کشی اور انہیں اپنے ہی گھروں میں اجنبی بنا دینا ہے۔

تسلط اور جبر کا آہنی شکنجہ

امور القدس کے نبض شناس ماہر جمال عمرو نے اس سنگین صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی سرزمین پر قابض اسرائیلی حکام نے دروازوں اور رکاوٹوں کا ایک ایسا جال بن دیا ہے جو فلسطینیوں کی زندگی کو قید خانے میں بدلنے کے مترادف ہے۔ ہر نصب شدہ دروازہ صہیونی تسلط کی ایک نئی علامت ہے، جس کا مقصد فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو مفلوج کرنا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے جمال عمرو نے دل گرفتہ لہجے میں بتایا کہ یہ آہنی کواڑ فلسطینیوں کے لیے تو ہمیشہ بند رہتے ہیں مگر غاصب آباد کاروں اور صہیونیوں کے لیے ان کے دہانے وا رکھے جاتے ہیں، جو اس سرزمین پر جاری بدترین نسلی امتیاز اور سفاکیت کا بین ثبوت ہے۔

جمال عمرو کے مطابق قدیم شہر، جو محض ایک مربع کلومیٹر پر محیط ہے، اسے قابض اسرائیل نے فوجی برجوں اور آہنی باڑوں کے ذریعے ایک چھاؤنی میں بدل دیا ہے۔ خاص طور پر باب العمود کے علاقے میں یہ اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ اس تاریخی شہر کو اس کے اصل فلسطینی اور اسلامی ماحول سے کاٹ کر الگ تھلگ کر دیا جائے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ سوق القطانین اور باب الحدید کے درمیان اس نئے آہنی دروازے کا مقصد اس تزویراتی راستے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے جہاں سے قبۃ الصخرہ کا دلنشین نظارہ ہوتا ہے۔ قابض اسرائیل یہاں اپنے انتہا پسند آباد کاروں کو تلمودی رسومات کی ادائیگی کے لیے “حفاظتی زون” فراہم کر رہا ہے، جبکہ اصل وارثوں یعنی فلسطینیوں کے لیے عبادت اور تجارت کے راستے مسدود کیے جا رہے ہیں۔ یہ مسجد اقصیٰ کے تقدس پر شب خون مارنے اور وہاں صہیونی بالادستی کو بزورِ قوت مسلط کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔

دروازہ: فلسطینی شناخت پر وار

بیت المقدسی حق پرست کارکن ناصر قوس نے اس موقع پر کہا کہ یہ نیا دروازہ دراصل فلسطینیوں کی روح کو زخمی کرنے کا ایک آلہ ہے۔ یہ قابض فوج اور غاصب آباد کاروں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ جب چاہیں اس زندگی بخش راہداری کو بند کر دیں، جس سے نہ صرف نمازیوں بلکہ تاجروں اور عام شہریوں کا جینا بھی محال ہو گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سنگدلانہ اقدام کی وجہ سے مقدسیوں کو اپنے ہی گھروں تک پہنچنے کے لیے طویل اور کٹھن راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں۔ سوق القطانین اور باب الحدید کا یہ تاریخی راستہ صدیوں سے فلسطینیوں کی دھڑکن رہا ہے، جسے اب صہیونی سنگینوں کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

محلوں میں بستیوں کا زہر اور فوجی ناکہ بندی

مقدسی ذرائع کے مطابق یہ تازہ ترین ناکہ بندی ان بے شمار فوجی چوکیوں کا تسلسل ہے جو قدیم شہر کے رگ و پے میں پیوست کر دی گئی ہیں۔ جہاں ایک طرف فلسطینیوں پر زمین تنگ کی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف “حوش دودو” اور مسجد اقصیٰ کے قرب و جوار میں غیر قانونی صہیونی بستیوں کا کینسر پھیلایا جا رہا ہے تاکہ اس تاریخی شہر کے نقشے سے فلسطینی وجود کو کھرچ کر پھینک دیا جائے۔

عوامی مزاحمت اور الیکٹرانک دروازوں کی یاد

قابض اسرائیل کے اس جابرانہ قدم نے سنہ 2017ء کے ان ولولہ انگیز ایام کی یاد تازہ کر دی ہے جب فلسطینیوں نے الیکٹرانک دروازوں کی تنصیب کے خلاف ایک عظیم الشان عوامی انتفاضہ بپا کیا تھا۔ اس وقت صہیونی غرور کو فلسطینیوں کے جذبۂ ایمانی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے۔ اہل القدس کا عزم آج بھی جوان ہے کہ وہ ان نئے آہنی دروازوں اور جغرافیائی تبدیلیوں کو بھی اپنی استقامت سے شکست فاش دیں گے۔

آبادیاتی تبدیلی اور گریٹر اسرائیل کا خواب

بستیوں کی تعمیر کے ماہر خلیل التفكجی نے خبردار کیا ہے کہ القدس میں جاری یہ تمام تر سکیورٹی اقدامات اور ناکہ بندیاں دراصل ایک بڑے صہیونی منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان کا ہدف فلسطینیوں کو اس قدر اذیت دینا ہے کہ وہ مجبور ہو کر قدیم شہر چھوڑ دیں اور یوں اسرائیل یہاں آبادیاتی تناسب کو اپنے حق میں کر سکے۔

ہمارے نامہ نگار کو دیے گئے بیان میں انہوں نے کہا کہ سنہ 2017ء سے جاری “انقاذ القدس” (القدس بچاؤ) جیسے مضحکہ خیز عنوانات کے تحت اسرائیل دراصل مشرقی اور مغربی القدس کو ضم کر کے فلسطینی ریاست کے ہر امکان کو دفن کر دینا چاہتا ہے۔ خلیل التفكجی نے خدشہ ظاہر کیا کہ قابض اسرائیل اب القدس میں بھی الخلیل جیسا سفاکانہ ماڈل نافذ کرنا چاہتا ہے، جہاں فلسطینیوں کی زندگی کا ہر سانس صہیونی فوجی بیوروکریسی کے رحم و کرم پر ہو۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan