رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) کلب برائے اسیران نے قابض صہیونی جیل انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے گذشتہ مارچ اور اپریل کے مہینوں کے دوران دامون جیل میں 10 مرتبہ وحشیانہ کریک ڈاؤن کیا، جہاں 88 فلسطینی اسیرات قید ہیں جن میں دو بچیاں اور تین حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔
کلب برائے اسیران نے ایک بیان میں کہا کہ ان سرکوبانہ کارروائیوں کے دوران اسیرات پر بہیمانہ تشدد کیا گیا، انہیں زبردستی زمین پر لٹایا گیا اور ان کے ہاتھ پیچھے کی جانب باندھ دیے گئے۔
بیان میں حال ہی میں دامون جیل سے رہا ہونے والی اسیرات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مرد اور خاتون جیلر اسیرات کو اسی بے بسی کی حالت میں جان بوجھ کر تشدد کا نشانہ بناتے رہے، جس کے نتیجے میں متعدد اسیرات شدید زخمی ہوئیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قابض اسرائیل مجموعی طور پر 88 اسیرات میں سے اکثریت کو دامون جیل میں قید رکھے ہوئے ہے جبکہ کچھ اسیرات تفتیشی اور حراستی مراکز میں ہیں۔ ان اسیرات میں دو بچیاں اور تین ایسی خواتین شامل ہیں جو حمل کے ابتدائی مہینوں میں ہیں، انہیں حال ہی میں قابض دشمن کے نام نہاد اشتعال انگیزی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
اسی تناظر میں کلب برائے اسیران نے واضح کیا کہ اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ کی پٹی پر جنگ کے آغاز کے بعد سے اسیرات کے خلاف تنہائی میں قید (عزل انفرادی) کی پالیسی میں تیزی آئی ہے، انہوں نے بتایا کہ کم از کم 6 اسیرات کو تنہائی میں رکھا گیا جن میں سے بعض کی سزا کی مدت دو ہفتے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
بیان کے مطابق اسیرات عقوبت خانوں کی تنگ کوٹھڑیوں میں شدید ازدحام کا شکار ہیں، جہاں بعض کوٹھڑیوں میں 10 اسیرات کو ٹھونس دیا گیا ہے اور اکثریت کو زمین پر سونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
بیان کے مطابق اس تاریخ سے اب تک “فاقہ کشی” کا جرم ایک نمایاں پالیسی بن کر سامنے آیا ہے جس کا ذکر رہا ہونے والی اسیرات کے بیانات میں کثرت سے ملتا ہے، خاص طور پر قابض دشمن کے تہواروں کے دوران یہ صورتحال سنگین ہو جاتی ہے، ایک اسیرہ کی گرفتاری کے چند ماہ بعد اس کا وزن تقریباً 30 کلوگرام تک کم ہو گیا ہے۔
اسیرات کے بیانات کے مطابق قابض اسرائیل کی بعض پالیسیاں اور خلاف ورزیاں سنہ 2023ء سے مستقل معمول بن چکی ہیں، جن میں “برہنہ تلاشی” سر فہرست ہے، خاص طور پر جب اسیرات کو عارضی حراست کے لیے ہشارون جیل منتقل کیا جاتا ہے یا دامون جیل لایا جاتا ہے تو انہیں انتہائی تذلیل اور توہین آمیز تلاشی کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ برہنہ تلاشی ان بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی پالیسیوں میں سے ایک ہے جو تمام مرد اور خواتین اسیران کے خلاف جنسی استحصال کی ایک شکل کے طور پر استعمال کی جا رہی ہے۔
علاوہ ازیں اسیرات کو علاج معالجے کی سہولیات سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے، ان میں سے کئی اسیرات دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں جبکہ دو اسیرات کینسر کے موذی مرض سے لڑ رہی ہیں۔
کلب برائے اسیران نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اکثریت کو یا تو قابض دشمن کے نام نہاد “اشتعال انگیزی” کے دعوے پر گرفتار کیا گیا ہے یا انہیں “خفیہ فائل” کی آڑ میں بغیر کسی الزام کے انتظامی طور پر قید رکھا گیا ہے۔
کلب برائے اسیران نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ ان فلسطینی اسیرات کو فوری رہا کیا جائے جنہیں بلا جواز قید رکھا گیا ہے، بالخصوص بچیوں، بیماروں اور حاملہ خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے ان کے خلاف جاری منظم جرائم اور خلاف ورزیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا جو اسیران اور اسیرات کے خلاف جاری نسل کشی کا ہی ایک چہرہ ہیں۔
سرکاری اور انسانی حقوق کے اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں میں 9400 سے زائد فلسطینی قید ہیں جو تشدد، فاقہ کشی اور طبی غفلت کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک درجنوں اسیران جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔
