Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

اسپین کا غزہ میں تحقیقات کرنے والے محققین کے تحفظ کا مطالبہ

میڈرڈ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی عدالت انصاف کے ان ججوں اور پراسیکیوٹرز کی آزادی اور تحفظ کے لیے رکاوٹ ڈالنے والا میکانزم فعال کرے جو غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

وزیراعظم سانچیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک تحریر میں کہا کہ بین الاقوامی انصاف کے علمبرداروں پر پابندیاں عائد کرنا انسانی حقوق کے پورے نظام کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ یورپی یونین اس ناانصافی پر خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتی۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسی لیے ہم کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے متعلقہ میکانزم کو فعال کرے تاکہ غزہ میں جاری نسل کشی کو ختم کرنے کی کوششوں کو تحفظ مل سکے۔

یعنی بلاکنگ میکانزم ایک ایسا طریقہ کار ہے جو یورپی یونین کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے ان قوانین اور فیصلوں کی پابندی نہ کرے جو اس کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہوں۔

سپین کے وزیراعظم نے ان پابندیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جو واشنطن کی جانب سے سنہ 2025ء کے آغاز سے عالمی عدالت انصاف کے ارکان پر لگائی جا رہی ہیں اور اب تک 11 جج اور پراسیکیوٹرز ان کی زد میں آ چکے ہیں۔

فروری سنہ 2025ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس میں عالمی عدالت انصاف کے اعلیٰ حکام اور ملازمین پر پابندیاں عائد کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ اقدام قابض اسرائیل کی حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو اور سابق وزیر جنگ یوآف گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔

گذشتہ جولائی کے مہینے میں واشنطن نے فلسطین کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز پر بھی پابندیاں عائد کر دی تھیں کیونکہ امریکہ کے بقول وہ قابض اسرائیل کے خلاف مہم چلا رہی تھیں۔

واضح رہے کہ قابض اسرائیل نے امریکہ کی بھرپور حمایت کے ساتھ 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ مسلط کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ 172 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس وحشیانہ جنگ میں شہری بنیادی ڈھانچے کا 90 فیصد حصہ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan