Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

جنگ کی واپسی کی دھمکیوں پر حماس کا ردعمل، مزاحمت نہیں رکے گی

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحری مزاحمت ’حماس‘ کے بیرون ملک سیاسی بیورو کے رکن عبدالجبار سعید نے کہا ہے کہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کی اسرائیلی دھمکیاں قابض دشمن کے اس مستقل اسلوب کی عکاسی کرتی ہیں جو آگ اور خون کے کھیل کے سائے میں مذاکرات کرنے پر مبنی ہے۔ ان کا مقصد حماس اور فلسطینی دھڑوں پر دباؤ ڈال کر ایسی رعایتیں حاصل کرنا ہے جو وہ میدان جنگ میں حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

عبدالجبار سعید نے العربی الجدید کو دیے گئے بیانات میں واضح کیا کہ قابض اسرائیل نے یہ گمان کر لیا تھا کہ امریکہ کی حمایت سے ایران کے خلاف لڑی جانے والی علاقائی جنگ سے تحریک کا موقف کمزور ہو جائے گا اور وہ رعایتیں دینے پر مجبور ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کا یہ اندازہ تحریک کی فطرت اور فلسطینی عوام کے حقوق سے وابستہ اس کے اٹل موقف کو نہ سمجھنے کا عکاس ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تحریک کسی بھی قیمت پر ان حقوق سے دستبردار نہیں ہو گی۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ قابض دشمن نے نسل کشی، فاقہ کشی، امداد کی بندش، گھروں کی مسماری، بچوں اور خواتین کے قتل عام سے لے کر اسیران پر حملوں تک کوئی ایسا جرم نہیں جو نہ کیا ہو۔

حماس کے رہنما نے مزید کہا کہ دشمن کے ان مظالم نے اس کی تمام دھمکیوں کو بے وقعت کر دیا ہے، تحریک اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم ہے اور اپنے عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالجبار سعید نے کہا کہ تحریک نے ثالثوں کو اپنے واضح موقف سے آگاہ کر دیا ہے کہ پہلی مرحلے کی مکمل تکمیل سے قبل دوسرے مرحلے کے بارے میں کسی قسم کی گفتگو نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پہلی مرحلے کی تکمیل میں غزہ کی پٹی سے سرحدوں تک قابض دشمن کا مکمل انخلاء، گزرگاہوں کا کھولنا، روزانہ کی بنیاد پر انسانی امداد کی ترسیل اور غزہ کے اندر آزاد انتظامی کمیٹی کو کام کرنے کا موقع فراہم کرنا شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر بمباری اور شہداء کے گرتے ہوئے جنازوں کے سائے میں یہ واجبات ابھی تک پورے نہیں کیے گئے، اور مسلسل جاری جارحیت کے دوران کسی اگلے مرحلے کی بات کرنا ممکن نہیں۔

عبدالجبار سعید نے بتایا کہ بعض ثالثوں نے دوسرے مرحلے پر ابتدائی بات چیت شروع کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جسے قابض دشمن کی جانب سے پہلے مرحلے پر عملدرآمد کے عزم سے مشروط کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کو بعض معاملات پر ابتدائی بحث کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن اس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پہلے مرحلے کی مکمل پاسداری اور جاری سفاکیت کے خاتمے سے قبل وہ کسی تفصیل میں نہیں جائے گی اور نہ ہی کسی معاہدے تک پہنچے گی۔

گذشتہ جمعہ کو فلسطینی مزاحمتی دھڑوں کے ذرائع نے ان مطالبات کی تفصیلات ظاہر کی تھیں جو ثالثوں کو پیش کیے گئے ہیں۔ یہ مطالبات چھ نکات پر مشتمل ہیں جن میں معاہدے کے پہلے مرحلے پر عملدرآمد، انسانی پروٹوکول کا نفاذ، لاکھوں موبائل گھروں اور خیموں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں اور بیکریوں کی دوبارہ تعمیر کا آغاز شامل ہے۔

فلسطینی دھڑوں نے اپنے جواب میں ایک بنیادی شرط یہ بھی رکھی ہے کہ قابض اسرائیل کی سرپرستی میں کام کرنے والے مسلح گروہوں (عصابات) کا مکمل خاتمہ کیا جائے تاکہ غزہ کی پٹی میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے اور فلسطینی شہریوں کے خلاف ان گروہوں کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan