جنوبی لبنان – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنانی تنظیم حزب اللہ نے آج اتوار کے روز قابض اسرائیل کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں اور نہتے شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے جواب میں صہیونی فوجی اہداف کے خلاف سلسلہ وار کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔
حزب اللہ نے وضاحت کی ہے کہ اسلامی مزاحمت کے مجاہدین نے البیاضہ نامی بستی میں قابض دشمن فوج کی گاڑیوں اور سپاہیوں کے ایک اجتماع کو خودکش ڈرون طیارے کے ذریعے نشانہ بنایا، اس کے علاوہ اسی بستی میں واقع ایک کمانڈ ہیڈ کوارٹر میں نصب جدید ترین نگرانی کے کیمروں کو بھی تباہ کیا گیا، جس میں دشمن کے جانی و مالی نقصان کی تصدیق کی گئی ہے۔
ایک علاحدہ بیان میں حزب اللہ نے بتایا کہ القنطرہ بستی میں واقع مرتفع الصلعہ کے گردونواح میں قابض اسرائیل کی گاڑیوں اور فوجیوں کے اجتماعات پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا، جبکہ حولا بستی کے ایک سکول کے قریب جمع ہونے والے دشمن کے دستوں پر بھی میزائلوں کی بوچھاڑ کی گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مجاہدین نے البیاضہ بستی میں ہی قابض فوج کے کمانڈ عملے کو لے جانے والی ایک فوجی گاڑی کو خودکش ڈرون سے نشانہ بنایا، جبکہ القنطرہ بستی کے چوک میں موجود دشمن کے فوجیوں اور گاڑیوں کے اجتماع پر بھی گولہ باری کی گئی۔
حزب اللہ نے گذشتہ کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ الناقورہ بستی میں قابض فوج کے اجتماعات کو دو مراحل میں خودکش ڈرونز کے غول کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس سے دشمن کی صفوں میں براہ راست ہلاکتیں ہوئیں۔
تنظیم نے ان کارروائیوں کی ویڈیو فوٹیج بھی جاری کی ہے جن میں قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام کارروائیاں دفاعی مقاصد کے لیے کی گئی ہیں تاکہ سیز فائر کی خلاف ورزی کرنے والے غاصب دشمن کو لگام دی جا سکے جو جنوبی لبنان کے دیہاتوں کی تباہی اور شہریوں پر حملوں سے باز نہیں آ رہا۔
اسی تناظر میں قابض اسرائیل سنہ 2026ء کے ماہ مارچ کی دوسری تاریخ سے لبنان پر اپنی سفاکیت اور جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 2618 افراد شہید اور 8 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 10 لاکھ سے زائد لوگ دربدر ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ 16 اپریل سنہ 2026ء کو دس روز کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جس میں 24 اپریل سنہ 2026ء سے مزید تین ہفتوں کی توسیع کی گئی، تاہم غاصب دشمن کی جانب سے خلاف ورزیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا اور تقریبا روزانہ کی بنیاد پر انسانی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے۔
