Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس نے مذاکرات جاری رکھنے کی آمادگی ظاہر کر دی، اسرائیل سے وعدوں کی پاسداری کا مطالبہ

دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے رہنما عبدالرحمن شدید نے تحریک کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شامل ہونے کی آمادگی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ غاصب اسرائیل معاہدے کے پہلے مرحلے کی شقوں پر عمل درآمد میں اپنی سنجیدگی ثابت کرے۔

رہنما عبدالرحمن شدید نے ایک صحافتی بیان میں وضاحت کی کہ مزاحمتی گروہوں کا جواب قومی ذمہ داری اور لچک کا آئینہ دار ہے جو کہ ثالثوں کی کوششوں کے اعتراف اور ان کے احترام میں دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں داخل ہونے کے لیے پہلے سے طے شدہ امور کے علاوہ کوئی نئی پیشگی شرط موجود نہیں ہے۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ اگلے مرحلے کی جانب منتقلی کے لیے ضروری ہے کہ غاصب اسرائیل غزہ کی پٹی میں جاری روزمرہ کے قتلِ عام کو بند کرے، انسانی امداد کی ترسیل کو یقینی بنائے اور شرم الشیخ معاہدے کی رو سے زخمیوں کو رفح گزرگاہ کے ذریعے باہر جانے کی اجازت دے۔

تحریک کے رہنما نے اس سوال کو اٹھایا کہ جب غاصب اسرائیل پہلے مرحلے کی شقوں پر ہی عمل نہیں کر رہا تو دوسرے مرحلے کی جانب منتقلی کا کیا فائدہ؟ انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ قتل و غارت، بھوک پیاس اور زخمیوں کو علاج سے محروم رکھنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

مزاحمت کے اسلحہ کے متعلق انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ فلسطینی عوام کا ثابت شدہ حق ہے اور قابض دشمن کی جاری ظالمانہ پالیسیوں کے سائے میں اس سے دستبردار ہونا ممکن نہیں۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ فلسطینی گروہ اس معاملے کو ایک جامع قومی وژن کے تحت حل کرنے کے لیے تیار ہیں جو فلسطینی عوام کے سیاسی حقوق کی ضمانت دیتا ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت کا اسلحہ بین الاقوامی قانون کے مطابق فلسطینی عوام کے دفاع کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس قابض دشمن نے آباد کاروں کو مسلح کر رکھا ہے جو فلسطینیوں کے خلاف بدترین سفاکیت کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

انہوں نے غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ محاصرے، بھوک اور قتلِ عام کی پالیسیوں کے ذریعے فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے اور بیس لاکھ سے زائد انسانوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔

عبدالرحمن شدید نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے ایک عظیم انسانی جرم کے طور پر تسلیم کرے اور ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے واضح موقف اختیار کرے۔

اسی تناظر میں تحریک کے ترجمان حازم قاسم نے اس بات کی تصدیق کی کہ ثالثوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر مثبت جواب دیا گیا ہے، جبکہ قاہرہ میں خلیل الحیہ کی سربراہی میں وفد کی شرکت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

حازم قاسم نے واضح کیا کہ تحریک مذاکراتی عمل کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ سیز فائر معاہدے پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے، جس میں پہلے مرحلے کی انسانی ذمہ داریوں کی تکمیل اور غاصب اسرائیل کو خلاف ورزیوں سے باز رکھنے پر توجہ مرکوز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ثالثوں نے کئی تجاویز پیش کیں جن کے ساتھ مثبت انداز میں تعاون کیا گیا تاکہ ایسے طریقہ کار وضع کیے جا سکیں جو معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کی ضمانت دیں، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فلسطینی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے عملی تفہیم تک پہنچنے کی خاطر مشاورت جاری ہے۔

تحریک نے گذشتہ بیانات میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا تھا کہ اس نے قاہرہ میں ثالثوں اور فلسطینی گروہوں کے ساتھ پہلے مرحلے کی تکمیل اور دوسرے مرحلے کی تیاری کے حوالے سے گہرے مشاورتی عمل اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تاکہ درپیش رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan